اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا ( پ٢٦،الحجرات: ١٢ )
نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مَرے بھائی کا گوشت کھائے ۔
فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
میں شبِ مِعْرَاج ایسی قوم کے پاس سے گزرا جو اپنے چہروں اور سینوں کو تانبے کے ناخُنوں سے نوچ رہے تھے ، میں نے پوچھا: اے جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا: یہ لوگوں کا گوشت کھاتے ( یعنی غیبت کرتے ) تھے اور ان کی عِزّت خراب کرتے تھے ۔(1)
غیبت کے گُنَاہ میں مبتلا ہونے کے بَعْض اَسْبَاب
( 1 ): غصّہ ( 2 ): بُغْض وکینہ ( 3 ): حَسَد ( 4 ): زِیادہ بولنے کی عادت ( 5 ): ہنسی مذاق کی لَتْ ( ایسا شَخْص دوسروں کو ہنسانے کے لئے لوگوں کی نقلیں اُتار کر بھی بسا اَوْقَات غیبت میں مُبْتَلا ہو جاتا ہے ) ( 6 ): گھریلو ناچاقیاں ( ان حالات میں غیبت سے بچنا قریب بہ ناممکِن ہے ) ( 7 ): گلہ شکوہ کرنے کی عادت ( جہاں کسی کے بارے میں دوسرے سے شِکْوہ شروع کیا کہ شیطان نے بدگمانیوں، عیب دَریوں، غیبتوں، تہمتوں اور چُغْلیوں کا ڈھیر لگوا دیا! ) ( 8 ): بے جا تنقیدی ذِہْن ( تنقیدِ بے جا کا مَرِیض کسی کی براہِ رَاسْت اِصْلاح کرنے کے بجائے عموماً دوسروں کے آگے غیبتیں کرتا پِھرتا ہے کہ وہ یوں کر رہا ہے وغیرہ ) ۔()
غیبت سے بچنے کے لئے
٭ دِینی مشغلوں اور دنیا کے ضروری کاموں سے فراغت کے بعد خَلْوَت یعنی تنہائی
________________________________
1 - ابو داود ، كتاب الادب ، باب فى الغيبة ، ص٧٦٥ ، حديث: ٤٨٧٨.
2 - غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۲۴۸ ، ملتقطًا.