Brailvi Books

گُنَاھوں کے عَذَابات( حصہ اول )
55 - 86
 پَہُنْچ جائے تو اُسے ناگوار مَعْلُوم ہو ۔(1) 
غیبت کی چند مِثَالَیں
کسی کے مَجْلِس سے اُٹھ کر جانے کے بعد اس طرح کہنا:  ٭ یار! وہ گیا، جان چُھوٹی ٭ ڈیڑھ ہشیار ہے ٭ بات بات پر ہا ہا کر کے ہنستا تھا وغیرہ ۔ اسی طرح مُسْتَحَبَّات ونوافِل میں سُستی کرنے والے کے بارے میں اس طرح کہنا: ٭ اُس نے زندگی میں کبھی عَاشُورا کا روزہ نہیں رکھا ٭ وہ اَوَّابین کیا پڑھے گا! اُس کو یہ تو پوچھو کہ یہ نوافِل کس وَقْت پڑھے جاتے ہیں ٭ وہ تَبَـرُّک کہہ کر نیاز تو کھا لیتا ہے مگر اس کے لئے چندہ کبھی نہیں دیتا ۔ 
”غیبت“ کے مُتَعَلِّق  مختلف اَحْکَام
 ( 1 ): غیبت گُنَاہِ کبیرہ، قطعی حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے ۔() ( 2 ): غیبت کو حَلال جاننے والا کافِر ہے ۔() ( 3 ): غیبت کرنے والا فاسِق وگنہگار اور عَذَابِِ نار کا حق دار ہوتا ہے ۔() ( 4 ): بغیر شَرْعِی مَجْبُوری کے غیبت سننے والا بھی غیبت کرنے والے ہی کی طرح گنہگار ہوتا ہے ۔() ( 5 ): ( بدمذہب کی غیبت شَرْعِی طور پر غیبت نہیں بلکہ ) بدمذہب کی بُرائیاں بَیَان کرنے کا خود شرعاً حکم ہے ۔()
آیتِ مُبَارَکہ
وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ
ترجمۂ کنزالایمان: اورایک دوسرے کی غیبت



________________________________
1 -    غیبت کی تباہ کاریاں ،  ص۴۳۸.
2 -    غیبت کی تباہ کاریاں ،  ص۲۶ ورسائل ابن نجيم ،  الرسالة الثالثة والثلاثون ،  ص٣٥٤.
3 -    الحديقة الندية ،  القسم الثانى فى آفات اللسان ،  المبحث الاول ،  النوع السادس فى الغيبة    الخ ،   ٤ / ٤٥.
4 -    غیبت کی تباہ کاریاں ،  ص۲۶ ،  ملتقطًا.
5 -     غیبت کی تباہ کاریاں ،  ص۲۵۹.
6 -     فتاویٰ رضویہ ،  ۶ / ۶۰۲.