پَہُنْچ جائے تو اُسے ناگوار مَعْلُوم ہو ۔(1)
غیبت کی چند مِثَالَیں
کسی کے مَجْلِس سے اُٹھ کر جانے کے بعد اس طرح کہنا: ٭ یار! وہ گیا، جان چُھوٹی ٭ ڈیڑھ ہشیار ہے ٭ بات بات پر ہا ہا کر کے ہنستا تھا وغیرہ ۔ اسی طرح مُسْتَحَبَّات ونوافِل میں سُستی کرنے والے کے بارے میں اس طرح کہنا: ٭ اُس نے زندگی میں کبھی عَاشُورا کا روزہ نہیں رکھا ٭ وہ اَوَّابین کیا پڑھے گا! اُس کو یہ تو پوچھو کہ یہ نوافِل کس وَقْت پڑھے جاتے ہیں ٭ وہ تَبَـرُّک کہہ کر نیاز تو کھا لیتا ہے مگر اس کے لئے چندہ کبھی نہیں دیتا ۔
”غیبت“ کے مُتَعَلِّق مختلف اَحْکَام
( 1 ): غیبت گُنَاہِ کبیرہ، قطعی حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے ۔() ( 2 ): غیبت کو حَلال جاننے والا کافِر ہے ۔() ( 3 ): غیبت کرنے والا فاسِق وگنہگار اور عَذَابِِ نار کا حق دار ہوتا ہے ۔() ( 4 ): بغیر شَرْعِی مَجْبُوری کے غیبت سننے والا بھی غیبت کرنے والے ہی کی طرح گنہگار ہوتا ہے ۔() ( 5 ): ( بدمذہب کی غیبت شَرْعِی طور پر غیبت نہیں بلکہ ) بدمذہب کی بُرائیاں بَیَان کرنے کا خود شرعاً حکم ہے ۔()
آیتِ مُبَارَکہ
وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ
ترجمۂ کنزالایمان: اورایک دوسرے کی غیبت
________________________________
1 - غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۴۳۸.
2 - غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۲۶ ورسائل ابن نجيم ، الرسالة الثالثة والثلاثون ، ص٣٥٤.
3 - الحديقة الندية ، القسم الثانى فى آفات اللسان ، المبحث الاول ، النوع السادس فى الغيبة الخ ، ٤ / ٤٥.
4 - غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۲۶ ، ملتقطًا.
5 - غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۲۵۹.
6 - فتاویٰ رضویہ ، ۶ / ۶۰۲.