جھوٹی قسم کھائی وہ سَخْت گنہگار ہوا، اس پر توبہ واِسْتِغفار فَرْض ہے مگر کفّارہ لازِم نہیں ۔() اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: اس ( یعنی جھوٹی قسم ) کا کوئی کفّارہ نہیں اس کی سزا یہ ہے کہ جہنّم کے کھولتے دریا میں غَوْطے دیا جائے گا ۔()
آیتِ مُبَارَکہ
لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَۚ- ( پ٧،المائده: ٨٩ )
ترجمهٔ کنزالايمان: اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غَلَط فہمی کی قسموں پر ہاں ان قسموں پر گِرِفْت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا ۔
فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
اس ذات کی قَسَم جس کے قبضۂ قُدْرَت میں میری جان ہے ! جو شَخْص قسم کھائے اور اس میں مچھر کے پَر کے برابر جھوٹ مِلا دے تو وہ قسم تا یَوْمِ قِیامت ( یعنی قِیامت کے دن تک ) اُس کے دِل پر ( سِیاہ ) نکتہ بن جائے گی ۔()
جھوٹی قسم کے بَعْض اسباب
( 1 ): غَلَطی پر ہونے کے باوُجُود خود کو سچّا ثابِت کرنے کے لئے بہت مرتبہ جھوٹی قسم کھا لی جاتی ہے ۔ ( 2 ): دُنْیَوی نَفْع کا حُصُول ( 3 ): بات بات پر قسمیں کھانے کی عادَت کہ ایسے شَخْص کا جھوٹی قسم میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے ۔ ( 4 ): اسی طرح جھوٹ کے اسباب مثلاً مُبَالغہ آرائی ( بڑھا چڑھا کر بَیَان کرنے ) کی عادت اور حُبِّ مَدَح یعنی اپنی تَعْرِیف کی
________________________________
1 - بہارِ شریعت ، حصہ نہم ، قسم کا بیان ، ۲ / ۲۹۹ ، بتغیر قلیل وفتاوى هندية ، كتاب الاَيمان ، الباب الاول فى تفسيرها الخ ، ٢ / ٥٨.
2 - فتاویٰ رضویہ ، ۱۳ / ۶۱۱.
3 - صحيح ابن حبان ، كتاب الحظر والاباحة ، ص١٤٩١ ، حديث: ٥٥٦٣.