صَدْرُ الْاَفَاضِل علَّامہ سیِّد محمد نعیم الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں: اس آیت سے ثابِت ہوا کہ جھوٹ حرام ہے اس پر عَذابِ اَلیم ( یعنی دَرْدناک عذاب ) مُرَتَّب ہوتا ہے ۔()
فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
جھوٹ سے بچو! کیونکہ جھوٹ گُنَاہ کی طرف لے جاتا ہے اور گُنَاہ جہنّم کا راستہ دِکھاتا ہے اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ پاک کے نزدیک کَذّاب ( یعنی بہت بڑا جھوٹا ) لکھ دیا جاتا ہے ۔(1)
”جھوٹ“ میں مبتلا ہونے کے بَعْض اسباب
( 1 ): مال کی حِرْص کہ خرید وفروخت میں رَقَم بچانے یا زِیادہ مال کمانے کے لئے جھوٹ بولنا عام پایا جاتا ہے ۔ ( 2 ): مُبَالَغَہ آرائی ( بڑھا چڑھا کر بیان کرنے ) کی عادت: ایسے اَفْرَاد حد سے بڑھ کر جھوٹی مُبَالَغَہ آرائی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ آج کل اَشْیاء کی مشہوری ( Avertisement ) میں اس طرح کی جھوٹی مُبَالغہ آرائی عام ہے ۔ ( 3 ): حُبِّ مَدَح یعنی اپنی تَعْرِیف کی خواہش، ایسے لوگ اپنی واہ واہ کے لئے جھوٹے واقِعَات بَیَان کرتے رہتے ہیں ۔ ( 4 ): فُضُول گوئی کی عادت ۔ ( 5 ): آج کل مُرَوَّتاً جھوٹ بولنا بھی عام پایا جاتا ہے مثلاً کسی نے سوال کیا: ”ہمارے گھر کا کھانا پسند آیا ؟“ تو مُرَوَّت میں آ کر کہہ دیا: ”جی، بہت پسند آیا ۔“ حالانکہ واقع میں اس کو کھانا پسند نہیں آیا تھا تو یہ بھی جھوٹ ہو گا ۔
________________________________
1 - خزائن العرفان ، پ۱ ، البقرۃ ، تحت الآیۃ: ۱۰ ، ص۷.
2 - مسلم ، كتاب البر و الصلة و الآداب ، باب قبح الكذب الخ ، ص١٠٠٨ ، حديث: ٢٦٠٧.