جھوٹ کی چند مِثَالیں
٭ کوئی چیز خریدتے وَقْت اس طرح کہنا کہ یہ مجھے فلاں سے اس سے کم قیمت میں مل رہی تھی حالانکہ واقِع میں ایسا نہیں ہے ۔ ٭ اسی طرح بائِع ( Seller ) کا زیادہ رَقَم کمانے کے لئے قیمتِ خرید ( Purchase price ) زِیادہ بتانا ۔ ٭ جَعْلی یا ناقِص یا جن دواؤں سے شِفا کا گمانِ غالِب نہیں ہے ان کے بارے میں اِس طرح کہنا ’’سو فیصدی شرطیہ عِلاج‘‘ یہ جھوٹا مُبَالغہ ہے ۔
”جھوٹ“ کے مُتَعَلِّق مختلف اَحْکَام
( 1 ): جھوٹ بولنا گُنَاہ اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے ۔(1) ( 2 ): جھوٹ کا مَعْصِیَت ( گُنَاہ ) ہونا ضروریاتِ دین میں سے ہے ( لہٰذا جو اس کے گُنَاہ ہونے کا مطلقاً اِنکار کرے دائرہ اِسْلَام سے خارِج ہو کر کافِر ومُرتَد ہو جائے گا ) ۔ (2) نوٹ: تین۳ صورتوں میں جھوٹ بولنا جائز ہے یعنی اس میں گُنَاہ نہیں: ایک جنگ کی صورت میں کہ یہاں اپنے مُقَابِل کو دھوکا دینا جائز ہے ، دوسری صورت یہ ہے کہ دو۲ مسلمانوں میں اِخْتِلاف ہے اور یہ ان دونوں میں صُلْح کرانا چاہتا ہے ، تیسری صورت یہ ہے کہ بی بی ( زَوجہ ) کو خوش کرنے کے لئے کوئی بات خِلَافِ واقِع کہہ دے ۔(3)
آیتِ مُبَارَکہ
قرآنِ مجید میں مُنَافِقِیْن کے مُتَعَلِّق فرمایا گیا ہے :
وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ ﳔ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ( ۱۰ ) ( پ١،البقرة: ١٠ )
ترجمۂ کنز الایمان: اور اُن کے لئے دردناک عذاب ہے بدلہ اُن کے جھوٹ کا ۔
________________________________
1 - رسائل ابن نجيم ، الرسالة الثالثة و الثلاثون فى بيان الكبائر الخ ، ص٣٥٥.
2 - کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ، ص۳۹۱ ، ماخوذًا.
3 - بہارِ شریعت ، ۳ / ۵۱۷ ، ملتقطًا وفتاوى هنديه ، كتاب الكراهية ، ٥ / ٤٣٢ ، مفصلًا.