( 2 ): رِشْوت لینا دینا اور دونوں کے درمیان دَلَّالی ( Dealing ) کرنا حرام وگُنَاہ ہے ۔(1) ( 3 ): جس نے کوئی مال رِشْوت سے حاصِل کیا ہو تو اس پر فَرْض ہے کہ جس جس سے وہ مال لیا انہیں واپس کر دے ، اگر وہ لوگ زندہ نہ رہے ہوں تَو ان کے وارِثوں کو وہ مال دے دے ، اگر دینے والوں کا یا ان کے وارِثوں کا پتا نہ چلے تو وہ مال فقیروں پر صَدقہ کر دے ، خرید و فَروخْت وغیرہ میں ا س مال کو لگانا حرام ہے ۔ اس کے عِلَاوہ اور کوئی طریقہ مالِ رشْوت کے وبال سے سُبُک دَوش ہونے ( یعنی نجات پانے ) کا نہیں ہے ۔(2)
آیتِ مُبَارَکہ
وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠( ۱۸۸ )( پ٢، البقرة: ١٨٨ )
ترجمۂ کنزالایمان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤاور نہ حاکموں کے پاس ان کا مُقَدَّمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھالو جان بوجھ کر ۔
اس آیت میں باطِل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا خواہ لُوٹ کر ہو یا چھین کر، چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رِشْوت یا جھوٹی گواہی سے ، یہ سب ممنوع وحَرام ہے ۔(3)
فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
اَلرَّاشِیْ وَالْمُرْتَشِیْ فِیْ النَّارِ یعنی رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں ۔(4)
________________________________
1 - جہنم کے خطرات ، ص۷۱.
2 - فتاویٰ رضویہ ، ۲۳ / ۵۵۱ ، بتغیر قلیل.
3 - صراط الجنان ، پ۲ ، البقرہ ، تحت الآیہ: ۱۸۸ ، ۱ / ۳۰۲.
4 - معجم اوسط ، ١ / ٥٥٠ ، حديث: ٢٠٢٦.