”سُود“ کے مُتَعَلِّق مختلف اَحْکَام
( 1 ): سُود حرامِ قَطْعِی ہے ، اس کی حُرمَت کا مُنْکِر ( یعنی حرام ہونے کا اِنکار کرنے والا ) کافِر ہے ۔(1) ( 2 ): جس طرح سُود لینا حرام ہے سُود دینا بھی حرام ہے ۔(2)
آیتِ مُبَارَکہ
اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ ( پ٣،البقرة: ٢٧٥ )
ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو سُود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چُھو کر مَخْبُوط ( پاگل ) بنادیاہو ۔
فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
رات میں نے دیکھا کہ میرے پاس دو۲شَخْص آئے اور مجھے زمینِ مُقَدَّس ( بَیْتُ المُقَدَّس ) میں لے گئے پھر ہم چلے یہاں تک کہ خون کے دریا پر پہنچے ، یہاں ایک شَخْص کنارے پر کھڑا ہے جس کے سامنے پتھر پڑے ہوئے ہیں اور ایک شَخْص بِیْچ دَرْیا میں ہے ، یہ کنارے کی طرف بڑھا اور نکلنا چاہتا تھا کہ کنارے والے شَخْص نے ایک پتھر ایسے زور سے اُس کے منہ پر ماراکہ جہاں تھا وہیں پہنچا دیا پھر جتنی بار وہ نکلنا چاہتا ہے کنارے والا منہ پر پتھر مارکر وَہیں لوٹا دیتا ہے ۔ میں نے پوچھا: یہ کون شَخْص ہے ؟ کہا، یہ شَخْص جو نہر میں ہے ، سُود خوار ( یعنی سود کھانے والا ) ہے ۔(3)
________________________________
1 - بہارِ شریعت ، حصہ۱۱ ، سُود کا بیان ، ۲ / ۷۶۸ ومنح الروض الازهر ، ص٤٦٨.
2 - بہارِ شریعت ، حصہ۱۱ ، سُود کا بیان ، ۲ / ۷۷۶ ، بتغیر قلیل.
3 - بخارى ، كتاب البيوع ، باب آكل الربا و شاهده و كاتبه ، ص٥٤٣ ، حديث: ٢٠٨٥.