”حَسَد “ کے مُتَعَلِّق مختلف اَحْکَام
( 1 ): حَسَد حرام ہے ۔(1) ( 2 ): اگر غیر اِخْتِیَاری طور پر دل میں کسی کے بارے میں حَسَد آیا اور یہ اس کو بُرا جانتا ہے تو اس پر گُنَاہ نہیں ( جب تک کہ اَعْضَا سے اس کا اَثَر ظاہِر نہ ہو ) ۔(2)
آیتِ مُبَارَکہ
وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍؕ- ( پ٥، النساء: ٣٢ )
ترجمۂ کنزالایمان: اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی ۔
فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
حَسَد سے بَچَو! بے شک حَسَد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھاتی ہے ۔()
حَسَد کے گُنَاہ میں مبتلا ہونے کے بَعْض اَسْبَاب
( 1 ): بُغْض وکینہ( 2 ): خود پر دوسرے کی بَرتَرِی بَرداشْت نہ کرنا ( 3 ): تکبُّر ( 4 ): اِحْسَاسِ کمتری ( 5 ): حُبِّ جاہ ۔
حَسَد سے بچنے کے لئے
٭ زِیادہ طَلَبی کی حِرْص خَتْم کیجئے اور جو مِلا جتنا مِلا اس پر اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہوئے قناعَت اِخْتِیار کیجئے ۔ ٭ دوسروں کی نعمتوں کے بارے میں زیادہ سوچنا چھوڑ دیجئے کیونکہ اپنے سے زیادہ نعمتوں والے کے بارے میں سوچتے رہنے سے اَکْثَر اِحْسَاسِ کَمْتری پیدا ہوتا ہے
________________________________
1 - فتاویٰ رضویہ ، ۱۳ / ۶۴۸ ۔
2 - الحديقة الندية ، الباب الثانى ، الخلق الخامس عشر الحسد ، المبحث الاول ، ٣ / ٣٤ ، بتغیر قلیل.
3 - ابو داود ، كتاب الادب ، باب فى الحسد ، ص٧٦٨ ، حديث: ٤٩٠٣.