حجِ فَرْض باقی ہے خود نہ کر سکے تو حجِ بَدَل کرائے ۔(1)
آیتِ مُبَارَکہ
وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًاؕ-وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ( ۹۷ ) ( پ٤،آل عمران: ٩٧ )
ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے ۔
فرمان مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
جسے کوئی ظاہِری حاجَت، سَخْت مَرَض يا ظالم بادشاہ نہ روکے پھر بھی وہ حج نہ کرے توچاہے يہودی ہو کر مَرے يا نَصْرَانی ۔(2)
حج سے مَحْرُومی کے بَعْض اَسْبَاب
( 1 ): بُخْل کہ حج کرنے میں کَثیر مال خرچ کرنا پڑتا ہے اور بعض لوگ مَحْض اِسی وجہ سے حج فَرْض ہونے کے باوُجُود ادا کرنے سے مَحْرُوم رہتے ہیں ۔ ( 2 ): طُوْلِ اَمَل ( یعنی لمبی اُمید ) کہ ابھی بہت عُمْر باقی ہے پہلے یہ یہ کام ہو جائیں اس کے بعد حج کر لیں گے ۔
حج کرنے کا ذِہْن پانے کے لئے
٭ قبر کی تنگی ووَحْشَت اور قِیامت کی ہَولْناکیوں پر غَور کیجئے ، اِنْ شَآءَ اللہ! دل سے دنیا کی مَحَبَّت نکلے گی، بُخْل کا خاتِمہ ہو گا اور راہِ خدا میں مال خرچ کرنے کا ذِہْن بنے گا ۔ ٭ موت کو کَثْرت سے یاد کیجئے اس سے لمبی امیدیں خَتْم ہوں گی، دل گُنَاہوں سے بيزار ہو گا اور نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کرنے کی مدنی سوچ بنے گی ۔
________________________________
1 - فتاوی فیض رسول ، ۱ / ۵۴۰.
2 - شعب الایمان ، باب فی المناسك ، ٣ / ٤٣٠ ، حدیث: ٣٩٧٩.