آیتِ مُبَارَکہ
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ( ۱۸۳ )( پ٢، البقرة: ١٨٣ )
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے ۔
فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
جس نے کسی رُخصت اور مرض کے بغير رَمَضَانُ الْمُبَارَک کا ايک روزہ چھوڑا وہ ساری زندگی کے روزے رکھے تب بھی اس کی کمی پوری نہیں کر سکتا ۔(1)
روزہ قضا ہونے کے بَعْض اَسْبَاب
( 1 ): ہر وَقْت کھاتے رہنے کی عادت: ایسے شَخْص کو نفس وشیطان بھوک سے ڈراتے ہیں اور اس کے لئے روزہ رکھنا دُشْوار ہو جاتا ہے ۔ ( 2 ): پان گٹکا، سگریٹ نوشی وغَیرہ کی عادت: یہ لوگ بھی ان چیزوں سے صَبْر نہ کر پانے کی بِنا پر روزہ چھوڑ دیتے ہیں ۔ ( 3 ): مالِ دنیا کمانے کی حِرْص کہ ایسے لوگ کام کرنے میں دُشْواری آنے کے اندیشے سے روزہ چھوڑ دیتے ہیں ۔ ( 4 ): بُری صُحْبَت جس کی وجہ سے آدمی غَفْلَت میں پڑا رہتا ہے اور فَرَائض و واجِبَات ادا کرنے کی اسے کچھ فِکْر نہیں ہوتی ۔ ( 5 ): بیماری کا بہانہکہ بعض نادان شَرْعِی مسئلے کا لحاظ کئے بغیر کسی ہلکے سے مرض کا بہانہ بنا کر روزہ چھوڑ دیتے ہیں ( نوٹ: مرض میں روزہ چھوڑنے کی رخصت کب ہوگی اس کے لئے فیضانِ رَمَضان، صفحہ 146 کا مطالعہ کیجئے ) ۔
________________________________
1 - ترمذی ، کتاب الصوم ، باب ماجاء فی الافطار متعمدًا ، ص٢٠٣ ، حدیث: ٧٢٣.