ترجمہ: اللہ پاک کا شکر ہے جس نے مجھ سے اَذِیَّت دُور کی اور مجھے عَافِیَّت دی ۔(1)
٭ …٭ …٭ …٭ …٭ …٭
دُرُود شریف کی فضیلت
فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: نماز کے بعد حمد و ثناء و دُرُود شریف پڑھنے والے سے فرمایا : ’’دُعا مانگ قبول کی جائے گی، سوال کر، دیا جائے گا ۔‘‘(2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
( 5 )...ماہِ رَمَضان کا روزہ چھوڑنا
”روزہ قضا کرنے “کے مُتَعَلِّق مختلف اَحْکَام
( 1 ): بِلاعُذْرِ شَرْعِی رَمَضَانُ الْمُبَارَک کا روزہ چھوڑ دینا گُنَاہِ کبیرہ (3)اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ ( 2 ): بَعْض مَجْبُوریاں ایسی ہیں جن کے سبب رَمَضَانُ الْمُبَارَک میں روزہ نہ رکھنے کی اِجَازت ہے ۔ مگر یہ یاد رہے کہ مجبوری میں روزہ مُعَاف نہیں وہ مجبوری خَتْم ہو جانے کے بعد اس کی قضا رکھنا فرض ہے ۔ البتہ قضا کا گُنَاہ نہیں ہو گا ۔(4) ( 3 ): جس نے رَمَضان کا روزہ قصداً ( یعنی جان بوجھ کر ) توڑ ڈالا تو اس پر اس روزہ کی قضا بھی ہے اور ( اگر کَفَّارے کی شَرائِط پائی گئیں تو ) 60 روزے کَفَّارے کے بھی ۔(5)
________________________________
1 - مصنف ابن ابى شيبة ، كتاب الطهارات ، ١ / ١٢ ، حديث: ٤ ومدنی پنج سورہ ، ص۲۰۴.
2 - نسائى ، كتاب السهو ، باب التمجيد والصلاة الخ ، ص٢٢٠ ، حديث: ١٢٨١.
3 - رسائل ابن نجيم ، الرسالة الثالثة والثلاثون فى بيان الكبائر الخ ، ص٣٥٣.
4 - فیضانِ رمضان ، احکامِ روزہ ، ص۱۴۲.
وبہارِ شریعت ، حصہ پنجم ، بیان ان وجوہ کا جن سے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے ، ۱ / ۱۰۰۴ ، ماخوذاً.
5 - فتاوى هندية ، كتاب الصوم ، باب فی تعريفه و تقسيمه ، ١ / ٢١٧.