Brailvi Books

گُنَاھوں کے عَذَابات( حصہ اول )
16 - 86
ترجمہ: اللہ پاک کا شکر ہے جس نے مجھ سے اَذِیَّت دُور کی اور مجھے عَافِیَّت دی ۔(1)
٭ …٭ …٭ …٭ …٭ …٭ 
دُرُود شریف کی فضیلت
فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: نماز کے بعد حمد و ثناء و دُرُود شریف پڑھنے والے سے فرمایا : ’’دُعا مانگ قبول کی جائے گی، سوال کر، دیا جائے گا ۔‘‘(2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!	صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
( 5 )...ماہِ رَمَضان کا روزہ چھوڑنا
”روزہ قضا کرنے “کے مُتَعَلِّق   مختلف اَحْکَام 
( 1 ): بِلاعُذْرِ شَرْعِی رَمَضَانُ الْمُبَارَک کا روزہ چھوڑ دینا گُنَاہِ کبیرہ (3)اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ ( 2 ): بَعْض مَجْبُوریاں ایسی ہیں جن کے سبب رَمَضَانُ الْمُبَارَک میں روزہ نہ رکھنے کی اِجَازت ہے ۔ مگر یہ یاد رہے کہ مجبوری میں روزہ مُعَاف نہیں وہ مجبوری خَتْم ہو جانے کے بعد اس کی قضا رکھنا فرض ہے ۔ البتہ قضا کا گُنَاہ نہیں ہو گا ۔(4) ( 3 ): جس نے رَمَضان کا روزہ قصداً ( یعنی جان بوجھ کر ) توڑ ڈالا تو اس پر اس روزہ کی قضا بھی ہے اور ( اگر کَفَّارے کی شَرائِط پائی گئیں تو ) 60 روزے کَفَّارے کے بھی ۔(5) 



________________________________
1 -    مصنف ابن ابى شيبة ،  كتاب الطهارات ،  ١ / ١٢ ،  حديث: ٤ ومدنی پنج سورہ ،  ص۲۰۴. 
2 -    نسائى ،  كتاب السهو ،  باب التمجيد والصلاة     الخ ،  ص٢٢٠ ،  حديث: ١٢٨١.
3 -    رسائل ابن نجيم ،  الرسالة الثالثة والثلاثون فى بيان الكبائر    الخ ،  ص٣٥٣.
4 -    فیضانِ رمضان ،  احکامِ روزہ ،  ص۱۴۲.
وبہارِ شریعت ،  حصہ پنجم ،  بیان ان وجوہ کا جن سے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے ،  ۱ / ۱۰۰۴ ،  ماخوذاً.
5 -    فتاوى هندية ،  كتاب الصوم ،  باب فی تعريفه و تقسيمه ،  ١ / ٢١٧.