ولعب ( کھیل کُود ) اور فُضُول کاموں میں کثرت سے مَشْغُوْلِیت کہ فُضُولیات میں پڑے آدمی کے دل سے اپنا قیمتی وَقْت ضائِع ہونے کا اِحْسَاس جاتا رہتا ہے اور اس کو ہر وَقْت انہی کی فِکْر رہتی ہے ۔
پابَندِ نماز بننے کے لئے
٭ پابندِ نماز، نیک پرہیزگار لوگوں کی صُحْبَت اِخْتِیَار کیجئے اور بُری صُحْبَت تَرْک کیجئے ۔ ٭ نماز پڑھنے کے فضائل وبَرَکات اور ترکِ نماز کے عَذَابات پڑھئے / سُنئے اور اپنے نازُک بدن پر غور کیجئے کہ نماز قضا کرنے کے سبب اگر ان میں سے کوئی عذاب ہم پر مُسَلَّط کر دیا گیا تو ہمارا کیا بنے گا ۔ ٭ یہ بات ذِہْن میں اچھی طرح بِٹھا لیجئے کہ جو رِزْق قِسْمَت میں ہے وہ مِل کر رہے گا اور تقدیر سے زِیادہ کسی کو کچھ نہیں مِل سکتا لہٰذا مال جمع کرنے کی حِرْص میں نماز سے غفلت بَرَتْنا سراسر خَسَارَہ ( نُقْصان ) ہے ۔ ٭ خود کو فائدہ مند اور ضروری کاموں میں مصروف رکھئے اور غیر ضروری کاموں سے پیچھا چُھڑا لیجئے ۔
مَدَنی مشورہ: قضا کی ہوئی نمازیں پڑھنے کا طریقہ اور تَفْصِیلی اَحْکَام جاننے کے لئے شیخِ طریقت، اَمِیْرِ اہلسنت حضرت علَّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطَّار قادِری دَامَتْ بَـرَکَاتُہُمُ الْعَالِـیَہ کے رِسالے ”قضا نمازوں کا طریقہ“ کا مُطَالعہ کیجئے ۔
حلقوں میں یاد کروائی جانے والی دُعا
بَیْتُ الْخَلَا سے باہَر آنے کے بعد کی دُعا
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْۤ اَذْهَبَ عَنِّى الْاَذٰى وَ عَافَانِىْ