Brailvi Books

گُنَاھوں کے عَذَابات( حصہ اول )
14 - 86
آیتِ مُبَارَکہ
فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ( ۵۹ )( پ١٦، مريم: ٥٩ )	
ترجمۂ کنزالایمان: تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخَلَف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں ( ضائع کیں )اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دَوزخ میں  غَیّ کا جنگل پائیں گے ۔
”غَیّ“ جہنّم میں ایک وادی ہے جس کی گرمی سے جہنّم کی وادیاں بھی پناہ مانگتی ہیں ۔(1) 
فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 
آج رات دو۲شَخْص ( یعنی حضرت جِبْرائیل عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت مِیکائیل عَلَیْہِ السَّلَام ) میرے پاس آئے اور مجھے اپنے ساتھ ( اَرضِ مُقَدَّسہ میں ) لے آئے ۔ میں نے دیکھا کہ ایک شَخْص لیٹا ہے اور اس کے سِرہانے ایک شَخْص پتّھر اُٹھائے کھڑا ہے اور پتّھر سے اُس کا سر کُچَل رہا ہے ، ہر بار کُچَلنے کے بعد سَر پھر ٹھیک ہو جاتا ہے ۔ میں  نے فِرِشتوں  سے کہا: سُبْحٰنَ اللہ! یہ کون ہے ؟ انہوں  نے عرض کی: آگے تشریف لے چلئے ( مزید مَنَاظِر دِکھانے کے بعد ) فِرِشتوں  نے عرض کی کہ پہلا شَخْص جو آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیکھا یہ وہ تھا جس نے قرآن پڑھا پھر اس کو چھوڑ دیا تھا اور فرض نمازوں  کے وَقْت سو جاتا تھا ۔(2) 
نماز قضا ہونے کے بَعْض اَسْبَاب
( 1 ): بے نمازیوں کی صُحْبَت ( 2 ): سستی وکاہلی ( 3 ): مال جَمْع کرنے کی حِرْص کہ ایسے لوگ کاروبار وغیرہ میں مَشْغُوْلِیت کے سبب نماز پڑھنے میں کوتاہی کرتے ہیں ۔ ( 4 ): لَہْو



________________________________
1 -    خزائن العرفان ،  پ۱۶ ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۵۹ ،  ص٥٧٨.
2 -    بخارى ،  كتاب التعبير ،  باب تعبير الرؤيا بعد صلاة الصبح ،  ص١٧١٤ ،  حديث: ٧٠٤٧ ،  ملخصًا.