فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
اُس ذات کی قَسَم جس کے قبضۂ قُدْرَت میں میری جان ہے ! بے شک ایک مؤمِن کا قَتْل کیا جانا اللہ پاک کے نزدیک دُنیا کے تباہ ہوجانے سے زِیادہ بڑا ہے ۔(1)
قَتْلِ نَاحَقْ کے بَعْض اَسْبَاب
( 1 ): مقصَد کے حُصُول میں ناکامی پر شدید غم وغصّہ ۔ ( 2 ): گھریلو ناچاقی مثلاً شوہر بیوی یا بھائی بھائی میں مُسَلْسَل جھگڑا ہو تو تنگ آ کر ایک فریق دوسرے کو قَتْل کر دیتا ہے ۔ ( 3 ): مال جَمْع کرنے کی حِرْص ۔ ( 4 ): جائیداد ( Property ) کے جھگڑے ، اس کے سبب قَتْل کرنا عموماً دیہاتوں میں زیادہ پایا جاتا ہے ۔ ( 5 ): تکبُّر کہ مُتَکَبِّر آدمی بَعْض اَوْقَات اپنے حق میں مَعْمُولی سی بے اَدَبی کرنے والے کو قَتْل کر دیتا ہے ۔ ( 6 ): سیاسی مَحَاذ آرائی، اس میں ایک فریق اپنے قائد کی حِمَایت میں دوسرے فریق کا بے دَریغ خون بَہَا دیتا ہے ۔(2)
قَتْلِ نَاحَقْ سے بچے رہنے کے لئے
٭ غصّے کو قابُو میں رکھئے ، اس کے لئے شیخِ طریقت، اَمِیْرِ اہلسنت حضرت علَّامہ ابوبِلال محمد الیاس عطَّار قادِری دَامَتْ بَـرَکَاتُہُمُ الْعَالِـیَہ کے رِسَالے غصّے کا عِلاجاور اِحْتِرَامِ مسلم کا مُطَالعہ مُفِید ہے ۔ ٭ گھر میں مدنی ماحول بنائیے اور شریعت وسنت کے مُطَابِق زندگی گُزَارئیے ، اِنْ شَآءَ اللہ! گھریلو ناچاقیوں اور لڑائی جھگڑوں کا خاتِمہ ہو گا ۔ ٭ دل سے دنیا کی مَحَبَّت نِکال دیجئے ۔ حدیث شریف میں ہے : حُبُّ الدُّنْیَا رَأْسُ کُلِّ خَطِیْئَۃٍ دنیا کی
________________________________
1 - نسائی ، کتاب تحریم الدم ، تعظیم الدم ، ص٦٥٢ ، حدیث: ٣٩٩٢.
2 - رسائل قادریہ ، قتل ناحق ، ص۴۷۳ و۴۷۴ ، ملخصاً.