مراحل میری نظروں میں گھومنے لگے اور مجھ پر یہ بات آشکار ہو گئی کہ عنقریب اس دنیا ئے فانی کی تمام تر آسائشیں چھوڑ کر مجھے بھی مرنا ہے اور گُھپ اندھیری قبر میں اترنا ہے، دولت و شہرت نہ تو قبر و آخرت ہی میں میرے کچھ کام آئے گی اور نہ ہی عذابِ نار کا حقدار بننے سے مجھے بچا پائے گی۔ یقینا زندگی بھر کے کرتوتوں کا حساب میری گردن پر ہوگا اگر گلوکا ری اور فنکاری کی حالت میں مر گیا تو میرا کیا بنے گا؟ میں نے اس بیان کو متعدد بار سنا مگر ہربا ر دل میں ایک مدنی انقلاب محسوس کیا بالآخر اس بیان کی برکت سے میں نے اپنے تمام سابقہ گناہوں سے سچی توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالیَہ سے بیعت ہو کر غوث پاک عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّزّاق کی غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں ڈال لیا۔ اس کے بعد بھی میں نے کئی مرتبہ یہ بیان سنالیکن جب جب سنتا میری آنکھوں سے آنسوجاری ہو جاتے۔ مجھ جیسا گناہگار جو کل تک نمازوں کی ادائیگی کے معاملے میں سستی کا شکا ر تھا، آج نہ صرف خود نمازی بن گیا تھا بلکہ دوسروں کو نمازیں پڑھانے والا بن گیا۔ مدنی انعامات پر عمل اور مدنی قافلوں میں سفرمیرا معمول بن گیا۔ میٹھے میٹھے آقا، مدینے والے مصطفی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّتوں پر عمل کا کچھ ایسا جذبہ ملا کہ میں نے اپنا چہرہ پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیاری پیا ری سنّت (داڑھی شریف) سے مزیّن کرلیا۔ سر پر سبزعمامے شریف کا تاج سجا کر سفید مدنی لباس میں ملبوس رہنے