بعدسردی سے بچنے کاکوئی سامان بھی نہ ہوتو تَیَمُّمجائزہے ۔ (اَیضاً ص۳۴۸)
خقیدی کوقیدخانے والے وُضونہ کرنے دیں تو تَیَمُّمکرکے نَمازپڑھ لے بعد میں اعادہ کرے اوراگروہ دشمن یاقیدخانے والے نمازبھی نہ پڑھنے دیں تواشارے سے پڑھے اوربعدمیں اعاد ہ کرے۔ (اَیضاً ص۳۴۹)
خاگریہ گُمان ہے کہ پانی تلاش کرنے میں قافِلہ نظروں سے غائب ہوجا ئے گاتوتَیَمُّم جائزہے۔ (اَیضاً ص۳۵۰)
خمسجِدمیں سورہاتھاکہ غسل فرض ہوگیا توجہاں تھاوہیں فوراًتَیَمُّم کرلے یہی اَحوط ( یعنی احتیاط کے زِیادہ قریب) ہے ۔(ماخوذ اَز فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۳ص۴۷۹) پھرباہَرنکل آئے تاخیرکرناحرام ہے۔ (بہارِ شریعت ج۱ص۳۵۲)
خوقت اتناتنگ ہوگیاکہ وُضویاغسل کرے گاتونَمازقضاہوجائیگی تو تَیَمُّم کرکے نَماز پڑھ لے پھر وُضویاغسل کرکے نمازکااِعادہ کرنالازِم ہے۔
(ماخوذ اَز فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۳ص۳۰۷)
خعورَت حیض ونِفاس سے پاک ہوگئی اورپانی پرقادِرنہیں توتَیَمُّمکرے ۔
(بہارِ شریعت ج۱ص۳۵۲)
خاگرکوئی ایسی جگہ ہے جہاں نہ پانی ملتاہے نہ ہیتَیَمُّمکیلئے پاک مِٹّی تو اسے چاہئے کہ وقتِ نَمازمیں نَمازکی سی صورت بنائے یعنی تمام حَرَکاتِ نَمازبِلانیّتِ نَمازبجالائے۔