کاچُھوناحرام ہے۔ (اَیْضاً ص۳۲۷)
{۹}اس کااستِعمال سب کیلئے مکروہ ہے۔ہاں خاص بہ نِیّت شِفااس میں پانی وغیرہ ڈال کرپینے میں حَرَج نہیں۔
{۱۰}قراٰنِ پاک کاترجَمہ فارسی یااُردُویاکسی دوسری زَبان میں ہواُس کوبھی پڑھنے یاچُھونے میں قرانِ پاک ہی کاساحُکم ہے۔ (اَیْضاً)
بے وُضُو دینی کتابیں چھونا
بے وُضُویاوہ جس پرغُسل فرض ہوان کوفِقہ،تفسیروحدیث کی کتابوں کا چُھونا مَکرُوہ ہے۔اوراگران کوکسی کپڑے سے چُھوااگرچِہ اس کو پہنے یااوڑھے ہوئے ہو تو مُضایَقہ نہیں۔ مگرآیتِ قراٰنی یااس کے تَرجَمے پر ان کتابوں میں بھی ہاتھ رکھناحرام ہے۔(اَیْضاً)
بے وُضواسلامی کتابیں پڑھنے والے بلکہ اخبارات ورسائل چھونے والے بھی احتیاط فرمایاکریں کہ عُمُوماًان میں آیات وتَرجَمے شامِل ہوتے ہیں ۔
ناپاکی کی حالت میں دُرُود شریف پڑھنا
جن پرغُسل فرض ہواُن کو دُرُودشریف اوردُعائیں پڑھنے میں حَرَج نہیں مگربہتریہ ہے کہ وُضو یاکُلّی کرکے پڑھیں۔ (بہارِ شریعت ج۱ ص۳۲۷) اذا ن کاجواب دینااُنکوجائزہے۔
(عالمگیری ج۱ص۳۸)
انگلی میں سیاہی( INK)کی تہ جمی ہوئی ہو تو ؟
پکانے والے کے ناخُن میں آٹا،لکھنے والے کے ناخُن وغیرہ پرسیاہی