Brailvi Books

غریب فائدے میں ہے
26 - 30
فرمَانِ مُصطَفٰے صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم: جس نے مجھ پر ایک بار دُرُودِ پاک پڑھا اللہ عزّوجلّاُس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے ۔ (مسلم)
اسْتِحْبابِ اللِّباس لِلشَّیْخ عبدالْحَقّ الدّھلَوی ص۳۶)خلباس حلال کمائی سے ہو اور جو لباس حرام کمائی سے حاصل ہوا ہو، اس میں  فرض ونَفل کوئی نَماز قَبول نہیں  ہوتی   ( اَیضاًص۴۱) خمَنْقُول ہے: جس نے بیٹھ کر عمامہ باندھا ،یا کھڑے ہو کرسَراوِیل (یعنی پا جا مہ  یا شلوار ) پہنی تواللہ عَزَّوَجَلَّاُسے ایسے مَرَض میں  مبتَلا فرمائے گا جس کی دواء نہیں   (اَیضاً ص ۳۹)خ پہنتے وَقت سیدھی طرف سے شروع کیجئے(کہ سنت ہے) مَثَلاً جب کُرتا پہنیں  تو پہلے سیدھی آستین میں  سیدھا ہاتھ داخل کیجئے پھر اُلٹا ہاتھ اُلٹی آستین میں (اَیضاً۴۳) خ اِسی طرح پاجامہ پہننے میں  پہلے سیدھے پائنچے میں  سیدھا پاؤں  داخِل کیجئے اور جب(کُرتا یا پاجامہ) اُتارنے لگیں  تو اس کے برعکس(اُلٹ)کیجئے یعنی اُلٹی طرف سے شروع کیجئے خدعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1197 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد  3صَفْحَہ409پر ہے:سنت یہ ہے کہ دامن کی لمبائی آدھی پنڈلی تک ہو اور آستین کی لمبائی زیادہ سے زیادہ انگلیوں  کے پَورَوں  تک اور چوڑائی ایک بالِشت ہو(رَدُّالْمُحتار ج ۹ ص ۵۷۹)خ  سنت یہ ہے کہ مرد کا تہبند یا پاجامہ ٹخنے سے اُوپر رہے(مراٰۃ ج۶ص۹۴) خمرد مردانہ اور عورت زَنانہ ہی لباس پہنے۔چھوٹے بچّوں  اور بچیوں  میں  بھی اِس بات کا لحاظ رکھئے خد عوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 481پر ہے:مرد کے لیے ناف کے نیچے سے گھٹنوں  کے نیچے تک’’ عورَت ‘‘ہے، یعنی اس کا چھپانا فرض ہے۔ ناف اس میں