فرمَانِ مُصطَفٰے صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم:اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذِکر ہو ا وروہ مجھ پر دُرُود ِپاک نہ پڑھے۔ (ترمذی)
داخِل نہیں اور گھٹنے داخِل ہیں۔(دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار ج۲ص۹۳) اس زمانے میں بَہُتَیرے ایسے ہیں کہ تہبند یا پاجامہ اِس طرح پہنتے ہیں کہ پَیڑُو(یعنی ناف کے نیچے) کا کچھ حصہ کھلا رہتا ہے، اگر کُرتے وغیرہ سے اِس طرح چھپا ہو کہ جِلد(یعنی کھال) کی رنگت نہ چمکے تو خیر، ورنہ حرام ہے اورنَمازمیں چوتھائی کی مِقدارکھلا رہا تونَماز نہ ہوگی(بہار شریعت)خصوصاً حج و عمرے کے اِحرام والے کو اِس میں سخت احتیاط کی ضرورت ہے خ آج کل بعض لوگ سرِ عام لوگوں کے سامنے نیکر ( ہاف پینٹ) پہنے پھرتے ہیں جس سے ان کے گھٹنے اور رانیں نظر آتی ہیں یہ حرام ہے، ایسوں کے کھلے گھٹنوں اور رانوں کی طرف نظر کرنا بھی حرام ہے ۔ بالخصوص کھیل کود کے میدان ، ورزِش کرنے کے مقامات اور ساحلِ سمندر پر اِس طرح کے مناظر زیادہ ہوتے ہیں ۔ لہٰذا ایسے مقامات پر جانے میں سخت احتیاط ضروری ہیخ تکبُّر کے طور پر جو لباس ہو وہ ممنوع ہے۔ تکبُّر ہے یا نہیں اِس کی شَناخت یوں کرے کہ ان کپڑوں کے پہننے سے پہلے اپنی جو حالت پاتا تھا اگر پہننے کے بعد بھی وُہی حالت ہے تو معلوم ہوا کہ ان کپڑوں سے تکبُّر پیدا نہیں ہوا۔ اگر وہ حالت اب باقی نہیں رہی تو تکبُّر آگیا۔ لہٰذا ایسے کپڑے سے بچے کہ تکبُّر بَہُت بُری صِفَت ہے۔(بہارِ شریعت ج۳ص۴۰۹ ،رَدُّالْمُحتارج ۹ ص ۵۷۹)
مدنی حلیہ
داڑھی ، زُلفیں ، سر پر سبز سبز عمامہ شریف( سبز رنگ گہر ا یعنی ڈارک نہ ہو ) کلی والا