فرمَانِ مُصطَفٰے صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم: شبِ جمعہ اور روزِ جمعہ مجھ پر درود کی کثرت کر لیا کرو جو ایسا کریگا قیامت کے دن میں اسکا شفیع و گواہ بنوں گا۔ (شعب الایمان)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
’’مَدَنی حُلیہ اپناؤ‘‘ کے چودہ حُرُوف کی نسبت سے لباس کے 14 مَدَنی پھول
تین فرامینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم: ملاحظہ ہوں :خ جِنّ کی آنکھوں اورلوگوں کے سِتْرکے درمیان پردہ یہ ہے کہ جب کوئی کپڑے اُتارے تو بِسْمِ اللہکہہ لے(اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط، ج۲،ص۵۹،حدیث:۲۵۰۴) مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّانفرماتے ہیں : جیسے دیوار اور پردے لوگوں کی نگاہ کیلئے آڑ بنتے ہیں ایسے ہی یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر جنّات کی نگاہوں سے آڑ بنے گا کہ جنات اس (یعنی شرمگاہ )کو دیکھ نہ سکیں گے(مراٰۃ ج۱ ص ۲۶۸ )خجو شخص کپڑا پہنے اور یہ پڑھے : اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ ھٰذَا وَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِحَوْلٍ مِّنِّیْ وَلَا قُوَّۃٍ ۱ ؎ تواس کے اگلے پچھلے گناہ مُعاف ہوجائیں گے(شُعَبُ الْاِیمان ج۵ ص۱۸۱ حدیث۶۲۸۵)خجو باوُجُودِ قدرت زیب وزینت کالباس پہننا تواضُع(یعنی عاجِزی) کے طور پر چھوڑ دے ،اللہ عَزَّوَجَلَّاس کو کرامت کا حُلّہ پہنائے گا (ابوداوٗد ج۴ص۳۲۶حدیث ۴۷۷۸)خخاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّمکا مبارَک لباس اکثر سفید کپڑے کا ہوتا(کَشْفُ الاِلْتِباس فِی
1 ترجمہ: تمام تعریفیں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے لیے جس نے مجھے یہ کپڑاپہنایا اور میری طاقت وقوت کے بغیر مجھے عطا کیا۔