Brailvi Books

غریب فائدے میں ہے
19 - 30
فرمَانِ مُصطَفٰے صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم: بروزِ قیامت لوگوں میں سے میرے قریب تر وہ ہوگا جس نے دنیا میں مجھ پر زیادہ درودِ پاک پڑھے ہونگے۔ (ترمذی)

مُفلِسی دُورکرنے کا وَظیفہ
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے آخِرت کے غریب اور حقیقی مُفْلِس کی بدنصیبی اوردُنْیَوِی غریب ومسکین کی خوش نصیبی کے متعلِّق جانا، ہم میں  سے ہر ایک کا یہ ذہن ہونا چاہئے کہ دُنیا میں  اگر مال ودولت کی کمی وغیرہ جیسی آزمائش آجائے تو وہ صبْر کرتے ہوئے اُسے برداشت کرے اور آخِرت کی غُربت سے پناہ مانگے کہ آخِرت کا غریب ہی درحقیقت بد نصیب ہے۔
	نیزیہ بھی ذہن نشین فرما لیجئے کہ بقدرِ کِفایَت مال کمانا، دوسروں  کے دستِ نگر (محتاج و حاجت مند) نہ ہونے، کسی پر بوجھ نہ بننے اور برسرِ روزگار ہونے کی تمنّا کرنا بُرا نہیں۔ اِس طرح کی تمنّا لئے ہوئے روزی کے لئے تگ و دَو کرنا،اَوراد ووظائِف پڑھنا صالحین کا طریقہ ہے جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا اِبنِ شِیْرَوَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں  کہ ایک دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مشہور ومقبول ولی حضرت سیِّدُنا مَعْرُوف کَرْخِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی خدمتِ بابرکت میں  ایک تنگدست ومُفْلِس شخص نے اپنی غُربت کی شکایَت کی۔ آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:’’اللہ تعالٰی تجھے اپنے حِفْظ واَمان میں  رکھے، اہل وعِیال کی طرف لوٹ جا اور یہ اَلفاظ وِرْدِ زباں  رکھ: ’’مَا شَآءَ اللہُ کَانَ(اللہ عَزَّوَجَلَّنے جو چاہا وہی ہوا)۔‘‘
	وہ شخص یہ وِرْد کرتاہوا گھر کی طرف جاہی رہاتھا کہ راستے میں  اُس کی ملاقات ایک اَنجان شخص سے ہوئی جس نے اُس کو ایک تھیلی پکڑائی اور چلا گیا۔ غریب شخص نے جب تھیلی