فرمَانِ مُصطَفٰے صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم: جو مجھ پر ایک دن میں 50بار دُرُودِ پاک پڑھے قیامت کے دن میں اس سے مصافحہ کروں(یعنی ہاتھ ملاؤں)گا۔ (ابن بشکوال)
ہو گا، فُلاں کا خون بہایا ہو گا اور فُلاں کو مارا ہو گا۔ پس اُس کی نیکیوں میں سے اُن سب کو اُن کا حصّہ دے دیا جائے گا۔ اگر اُس کے ذمّے آنے والے حُقُوق کے پورا ہونے سے پہلے اُس کی
نیکیاں ختم ہو گئیں تو لوگوں کے گناہ اُس پر ڈال دیئے جائیں گے، پھر اُسے جہنَّم میں پھینک دیا جائے گا۔‘‘
(مسلِم، کتاب البر و الصلۃالخ،باب تحریم الظلم،ص۱۳۹۴،حدیث:۲۵۸۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ڈر جاؤ! لرزاُٹھو! حقیقت میں مُفْلِس وہ ہے جو نَماز، روزہ،حج، زکوٰۃ وصَدَقات، سخاوتوں ، فلاحی کاموں اور بڑی بڑی نیکیوں کے باوُجُود بروزِقیامت خالی کا خالی رہ جائے! کبھی گالی دے کر،کبھی تہمت لگا کر، بِلااجازتِ شَرعی ڈانٹ ڈپٹ کر، بے عزّتی کرکے، ذلیل کرکے، مار پیٹ کر، عارِیَتًا(یعنی عارِضی طور پر) لی ہوئی چیزیں قصداً نہ لوٹا کر، قرض دَبا کراور دل دُکھا کر جن کو دُنیا میں ناراض کردیا ہو گاوہ اُس کی ساری نیکیاں لے جائیں گے اور نیکیاں خَتْم ہو جانے کی صورت میں اُن کے گناہوں کا بوجھ اُس پر ڈال کر واصِلِ جہنَّم کر دیا جائے گا۔
الٰہی! واسِطہ دیتا ہوں مَیں میٹھے مدینے کا
بچا دُنیا کی آفت سے، بچا عُقبٰی کی آفت سے
(وسائل بخشش)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد