فرمَانِ مُصطَفٰے صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم: :جس نے کتاب میں مجھ پر دُرُودِ پاک لکھا تو جب تک میرا نام اُس میں رہے گا فرشتے اس کیلئے اِستغفار (یعنی بخشش کی دعا) کرتے رہیں گے۔ (طبرانی)
محبوبِرَبُّ الْعِزَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّمنے حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہاکو مُخاطَب کرکے اِرشاد فرمایا: ’’یَا عَائِشَۃُ اَحِبِّی الْمَسَاکِیْنَ وَقَرِّبِیْہِمْ فَاِنَّ اللہَ یُقَرِّبُکِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یعنی اے عائِشہ(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا)! مسکینوں سے مَحَبَّتکرو، اُنہیں اپنے قریب رکھو تاکہ بروزِ قِیامت اللہ تعالٰی تمہیں اپنے قُرْب سے نَوازے۔‘‘
(مِشکاۃ المصابیح، کتاب الرقاق،باب فضل الفقراء الخ،الفصل الثانی، ۱/۲۵۵، حدیث:۵۲۴۴مختصراً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حقیقی مُفلِس کون؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دُنیوی مال وزَر کی محتاجی اُخرَوی نعمتیں پانے کا سبب ہے بشرطیکہ صبْر کا دامن ہاتھ سے نہ چُھوٹے۔ لہٰذا اِس حالت سے پریشان ہوں نہ تشویش میں مُبتَلا ہوں۔تشویش ناک غُربَت تو آخِرت کی غُربت ہے اور یہی غُربَت در حقیقت مصیبت ہے جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوہُرَیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَروی ہے کہ پیکرِ اَنوار، تمام نبیوں کے سردار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم نے صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے اِستِفسار فرمایا: کیا تم جانتے ہو مُفْلِس کون ہے؟ صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرْض کی: ہم میں مُفْلِس(یعنی غریب، مسکین) وہ ہے جس کے پاس نہ دِرہم ہوں اور نہ ہی کوئی مال۔ تو اِرشاد فرمایا: ’’ میری اُمّت میں مُفلِس وہ ہے جو قِیامت کے دن نَماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا لیکن اُس نے فُلاں کوگالی دی ہو گی، فُلاں پر تہمت لگائی ہو گی، فُلاں کا مال کھایا