نہاتے دھوتے خوشیاں مناتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ حضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس روز غسلِ صحت فرمایا تھا اور بیرونِ مدینہ طیبہ سیر کے لیے تشریف لے گئے تھے ۔ یہ سب باتیں بے اصل ہیں بلکہ ان دنوں میں حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مرض شدت کے ساتھ تھا ، وہ باتیں خلافِ واقع ہیں ۔ ( 1)
ماہِ صفر میں پیش آنے والے چندتاریخی واقعات :
)1(… ہجرت کے دوسرے سال ماہِ صفر المظفر میں حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیکَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اورخاتونِ جنت حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہ زَہْرَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی شادی خانہ آبادی ہوئی ۔ ( 2)
)2(…آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خیبر پردس روز سے کچھ اُوپر محاصرہ جاری رکھا اور آخر کار سن سات ہجری صفر المظفر کے مہینے میں خیبر فتح کرلیا ۔ ( 3)
)3(…حضرتِ سیِّدُنا خالد بن ولید ، حضرتِ سیِّدُنا عَمْرو بن عاص اور حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن طلحہ عَبْدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے صفر المظفرآٹھ ہجری میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکراسلام قبول کیا ۔ ( 4)
)4(…صفر المظفر سولہ ہجری میں مدائن ( جس میں کسرٰی کا محل تھا ) کی فتح ہوئی ۔ ( 5)
)5(…امیر المؤ منین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے دورِ خلافت میں ۱۶ھ میں حضرتِ سَیِّدُنا سعد بن اَبی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایوانِ ( محل) کِسرٰی میں جمعہ کی نماز ادا کی اور یہ پہلا جمعہ تھا جو عراق کی مملکت میں پڑھا گیا ۔ یہ ماہِ صفر تھا ۔ (6 )
)6(…ماہ صفر المظفر ۱۱سن ہجری میں ہی اَسْوَد عَنْسی کَذَّاب کو صحابی رسول حضرت سیدنا فیروز دیلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
________________________________
1 - بہار شریعت ، ۳ / ۶۵۹
2 - الکامل فی التاریخ ، ۲ / ۱۲
3 - فیضانِ فاروق اعظم ، ۱ / ۵۳۵ ۔ ۔ ۔ ۔ البدایہ والنھایہ ، ۳ / ۳۹۲
4 - الکامل فی التاریخ ، ۲ / ۱۰۹
5 - الکامل فی التاریخ ، ۲ / ۳۵۷
6 - تاریخ الخلفاء ، ص۱۰۴ ۔ ۱۰۵