Brailvi Books

فیضان صفر المظفر
29 - 29
 عَنْہ نے واصل جہنم کیا ۔  ( 1) 
صفر المظفر کی فضلیت : 
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : حج کر نے والا مغفرت یافتہ ہے اور حاجی ذوالحجۃ الحرام ، محرم الحرام ، صفر المظفر اور ربیع الاول کے 20دنوں میں جس کے لئے استغفار کرے اس کی بھی مغفرت ہو جاتی ہے ۔ (2 ) 
صفر کچھ نہیں : 
	پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صفر المظفر کے بارے میں  وہمی خیالات کو باطِل قرار دیتے ہوئے فر مایا : ’’ لَاصَفَرَ‘‘صفر کچھ نہیں ۔ (3)  حضرت علامہ مولانا شاہ عبد الحق محدث ِدہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس کی شرح میں  لکھتے ہیں : عوام اسے ( یعنی ماہِ صفر کو) بلاؤں ، حادثوں اور آفتوں  کے نازل ہونے کا وَقْت قرار دیتے ہیں ، یہ عقیدہ باطِل ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں  ہے ۔ (4 ) 
	صَدرُ الشَّریعہ حضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہلکھتے ہیں  : ماہِ صفر کو لوگ منحوس جانتے ہیں  اس میں  شادی بیاہ نہیں  کرتے لڑکیوں  کو رخصت نہیں  کرتے اور بھی اس قسم کے کام کرنے سے پرہیز کرتے ہیں  اور سفر کرنے سے گریز کرتے ہیں ، خصوصاً ماہِ صفر کی ابتدائی تیرہ تاریخیں  بہت زیادہ نحس ( یعنی نُحوست والی) مانی جاتی ہیں  اور ان کو تیرہ تیزی کہتے ہیں  یہ سب جہالت کی باتیں  ہیں ۔ حدیث میں  فرمایاکہ ’’صفر کوئی چیز نہیں ‘‘یعنی لوگوں  کا اسے منحوس سمجھنا غَلَط ہے ۔  اسی طرح ذیقعدہ کے مہینہ کو بھی بہت لوگ بُراجانتے ہیں  اور اس کو خالی کا مہینہ کہتے ہیں  یہ بھی غَلَط ہے اور ہر ماہ میں 3 ، 13 ، 23 ، 8 ، 18 ، 28( تاریخ) کو منحوس جانتے ہیں  یہ بھی لَغْو( یعنی بے کار) بات ہے ۔ ( 5) 


________________________________
1 -    فیضانِ صدیق اکبر ، ص : ۳۹۱ 
2 -    احیاء العلوم  ، کتاب اسرار الحج ، باب فی فضائلھا وفضائل مكة... الخ ، ۱ / ۳۲۳
3 -     بخاری ، کتاب الطب ، باب الجذام ۴ /  ۲۴ ، حدیث : ۵۷۰۷
4 -    اشعة اللمعات ، ۳ / ۶۶۴
5 -    بہار شریعت ، ۳ / ۶۵۹