Brailvi Books

فیضان صفر المظفر
27 - 29
 کی اصل وجہ پر غور نہیں  کیا ، نہ اپنے عمل کی خرابی کا احساس کیا اور نہ ہی لڑائی جھگڑے اور جنگ و جِدال سے خود کو باز رکھا بلکہ اس مہینے کو ہی منحوس ٹھہرا د یا ۔  
کسی دن کو منحوس سمجھنا  یہود کا طریقہ ہے : 
	علامہ سید محمد امین بن عمر بن عبد العزیز شامی قُدِّسَ سرُّہُ السّامی لکھتے ہیں : علامہ حامد آفندیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے سُوال کیا گیا : کیابعض دن منحوس یا مبارک ہوتے ہیں  جوسفر اور دیگر کام کی صلاحیت نہیں رکھتے ؟ تو انہوں  نے جواب دیا : جو شخص یہ سُوال کرے کہ کیا بعض دن منحوس ہوتے ہیں  اس کے جواب سے اِعراض کیا جائے اور اس کے فعل کو جہالت کہا جائے اور اس کی مذمت بیان کی جائے ، ایسا سمجھنا یہود کا طریقہ ہے ، مسلمانوں کا شیوہ نہیں  ہے جو اللہ تعالیٰ پر توکُّل کرتے ہیں ۔ ( 1) 
کونسا وقت ، کونسا دن منحوس ہوتا ہے ؟ 
	مشہور مفسرشارح حدیث مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہایک حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اسلام میں  کوئی دن یا کوئی ساعت منحوس نہیں  ہاں  بعض دن بابرکت ہیں ۔ ( 2) 
	تفسیر رُوح البیان میں  ہے : صفر وغیرہ کسی مہینے یا مخصوص وَقْت کو منحوس سمجھنا دُرُست نہیں ، تمام اوقات اللہ عَزَّوَجَلَّکے بنائے ہوئے ہیں  اور ان میں  انسانوں  کے اعمال واقع ہوتے ہیں ۔ جس وَقْت میں  بندۂ مومن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت وبندگی میں مشغول ہو وہ وَقْت مبارک ہے اور جس وَقْت میں اللہکریم کی نافرمانی کرے وہ وَقْت اس کے لئے منحوس ہے ۔  درحقیقت اصل نُحوست تو گناہوں  میں  ہے ۔ ( 3) 
صفر المظفر کا آخری بدھ منانا : 
	حضرت  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیلکھتے ہیں : ماہ صفر کا آخر چہار شنبہ( بُدھ) ہندوستان میں  بہت منایا جاتا ہے ، لوگ اپنے کاروبار بند کردیتے ہیں ، سیر و تفریح و شکار کو جاتے ہیں ، پُوریاں  پکتی ہیں اور 



________________________________
1 -    بدشگونی ، ص : ۵۸ بحوالہ تنقیح الفتاوی الحامدیہ ، ۲ /  ۳۶۷  
2 -    مراٰۃ المناجیح ، ۵ / ۴۸۴
3 -    تفسیر روح البیان ، ۳ / ۴۲۸