Brailvi Books

فیضان صفر المظفر
26 - 29
صفر کے بارے میں دیگر معلومات
( من جانب : مجلس المدینۃ العلمیہ) 
صفر کے متعلق غیر اسلامی نظریہ : 
	 نحوست کے وہمی تصورات کے شکارلوگ ماہِ صفرکو مصیبتوں اور آفتوں  کے اُترنے کا مہینہ سمجھتے ہیں ، خصوصاً اس کی ابتدائی تیرہ تاریخیں  جنہیں  ’’تیرہ تیزی‘‘  بھی کہا جاتا ہے بہت منحوس تصوُّر کی جاتی ہیں ۔  کچھ لوگوں  کا  یہ ذہن بنا ہوتا ہے کہ صفر کے مہینے میں  نیا کاروبار شروع نہیں  کرناچا ہئے کہ نقصان کا خطرہ ہے ، سفر کرنے سے بچنا چاہئے کہ ایکسیڈنٹ کا اندیشہ ہے ، شادیاں  نہ کریں ، بچیوں کی رخصتی نہ کریں  گھر برباد ہونے کا امکان ہے ، ایسے لوگ بڑا کاروباری لین دین نہیں  کرتے ، گھر سے باہر آمد و رفت میں  کمی کردیتے ہیں ، اس گمان کے ساتھ کہ آفات ناز ل ہورہی ہیں اپنے گھر کے ایک ایک برتن کو اور سامان کو خوب جھاڑتے ہیں ، اسی طرح اگر کسی کے گھر میں  اس ماہ   میت ہو جائے تواسے منحوس سمجھتے ہیں اور اگر اس گھرانے میں  اپنے لڑکے یا لڑکی کی نسبت طے ہوئی ہو تو اس کو توڑ دیتے ہیں ۔  تیرہ تیزی کے عنوان سے سفید چنے ( کابلی چنے ) کی نیاز بھی دی جاتی ہے ۔  نیاز فاتحہ کرنامُسْتَحَب وباعثِ ثواب ہے اور ہر طرح کے رزقِ حلال پر ہر ماہ کی ہر تاریخ کو دی جا سکتی ہے لیکن یہ سمجھنا کہ اگر تیرہ تیزی کی فاتحہ نہ دی اور سفید چنے پکا کر تقسیم نہ کئے تو گھر کے کمانے والے افراد کا روزگار متاثر ہوگا ، یہ بے بنیاد اور فرسودہ  خیالات  وتَوَہُّمات ہیں ۔ 
صفر کے متعلق زمانہ جاہلیت کا غلط نظریہ : 
	اہل  عرب حُرمت کی وجہ سے چار ماہ ، رجب ، ذُوالقعدۃ ، ذُوالحجہ اور مُحرَّم میں جنگ و جَدَل اور لُوٹ مار سے باز رہتے اور انتظار کرتے کہ یہ پابندیاں  ختم ہوں  تو وہ نکلیں  اور لوٹ مار کریں  لہٰذا صفر شروع ہوتے ہی وہ لوٹ مار ، رَہْزنی اورجنگ و جَدَل کے ارادے سے جب گھروں  سے نکلتے تو ان کے گھر خالی رہ جاتے ، اسی وجہ سے کہا جاتا ہے : ’’صَفَر الْمَکَان( مکان خالی ہو گیا) ‘‘ ۔  جب عربوں  نے دیکھا کہ اس مہینے میں  لوگ قتل ہوتے ہیں  اور گھر برباد یا خالی ہو جاتے ہیں  تو انہوں نے اس سے یہ شگون لیا کہ یہ مہینہ ہمارے لئے منحوس ہے اورگھر وں  کی بربادی اور ویرانی