پھر گناہوں کی طرف منہ نہ کرے ۔ گناہوں کے مِرگی زدہ کتنے ہی مریضوں کو یہاں آرام آیا ، خواہشات کے ڈسے ہوئے کتنوں کو ہی شفا ملی ، کتنے بچھڑے ہوئے خُدا سے ملے ، ( مصنف عَلَیْہِ الرَّحْمَۃعاجزی کرتے ہوئے فرماتے ہیں) ہاں! عیب اتنا ہے کہ یہ طبیب جو علاج دوسروں کو بتارہا ہے وہ خود بھی اپناتا تو ہر کوئی اس کی بات کی طرف آجاتا ۔
ہائے زندگی کی تباہی! اگر سننے والا نجات پاجائے اور سُنانے والا ہلاک ہوجائے ، ہائے کوشش کی ناکامی! اگر پیچھے آنے والا پہنچ جائے اور رہنما رہ جائے ۔
وَغَیْرُ تَقِیٍّ یَاْمُرُ النَّاسَ بِالتُّقٰی طَبِیْبٌ یُدَاوِی النَّاسَ وَہُوَ سَقِیْمٌ
یَا اَیُّہَا الرَّجُلُ الْمُقَوِّمُ غَیْرَہٗ ہَلَّا لِنَفْسِکَ کَانَ ذَا التَّقْوِیْمُ
فَابْدَءْ بِنَفْسِکَ فَانْہَہَا عَنْ غَیِّہَا فَاِنْ انْتَہَتْ عَنْہُ فَاَنْتَ حَکِیْمٌ
فَہُنَاکَ یُقْبَلُ مَا تَقُوْلُ وَیُقْتَدٰی بِالْقَوْلِ مِنْکَ وَیَنْفَعُ التَّعْلِیْمُ
لَا تَنْہَ عَنْ خُلُقٍ وَتَاْتِیْ مِثْلَہٗ عَارٌ عَلَیْکَ اِذَا فَعَلْتَ عَظِیْمٌ
ترجمہ : جو خود پرہیزگار نہ ہو اور لوگوں کو پرہیزگاری کا حکم دے وہ ایسا طبیب ہے جو خود بیمار ہو اور لوگوں کا علاج کرتا پھرے ۔ اے دوسروں کو درستی دینے والے ! کیا یہی درستی تیری اپنی جان کے لئے نہیں؟ اپنے نفس سے ابتدا کر ، اُسے سرکشی سے روک ، اگر وہ باز آگیا تو تو واقعی دانشور ہے ۔ اب جو وعظ تو کہے گا وہ مانا جائے گا ، تیری بات کی پیروی کی جائے گی اور تیرا سکھانا فائدہ دے گا ۔ ایسا نہ ہو کہ جس کام سے لوگوں کو منع کرے وہی کام خودکر رہا ہو ، اگر تو نے ایسا کیا تو یہ تیرے لئے بہت زیادہ شرمناک بات ہوگی ۔
کَمْ ذَا التَّمَادِیْ فَہَا قَدْ جَاءَنَا صَفَرٌ شَہْرٌ بِہٖ الْفَوْزُ وَالتَّوْفِیْقُ وَالظَّفَرُ
فَابْدَأْ بِمَا شِئْتَ مِنْ فِعْلٍ تُسَرُّ بِہٖ یَوْمَ الْمَعَادِ فَفِیْہِ الْخَیْرُ یُنْتَظَرُ
تُوْبُوْا اِلَی اللہِ فِیْہِ مِنْ ذُنُوْبِکُمْ مِنْ قَبْلُ یَبْلُغُ فِیْکُمْ حَدُّہٗ الْعُمُرُ
ترجمہ : یہ سرکشی کب تک چلے گی؟ دیکھو! صفر کا مہینا آگیا ہے ، وہ مہینا جس میں کامیابی ، توفیقِ الٰہی اور با مُرادی ہے ۔ قیامت کے دن خوش کرنے والا جو عمل چاہو شروع کرلو! اس مہینے میں بھلائی کی ہی امید ہے ۔ اس مہینے میں گناہوں سے توبہ کرلو ، بارگاہِ الٰہی کی طرف رجوع لاؤ ، اس سے پہلے کہ اللہ پاک کی مقدر کی ہوئی تمہاری عمر پوری ہوجائے ۔