حضرت سیِّدُنا ا براہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جو توبہ کرنا چاہے وہ لوگوں کے حقوق سے نکل جائے اور جس کی صحبت میں تھا اس کی صحبت چھوڑ دے ورنہ مُراد نہیں ملے گی ۔
گناہوں سے بچو! یہ مَنحوس ہوتے ہیں ، ان کے انجام بُرے اور سزائیں دردناک ہیں ، گناہوں کو پسند کرنا دلوں میں بیماری ہے ، گناہوں کی طرف جھکنے والے دل ٹیڑھے ہیں ، ان سے محفوظ رہنا بڑی دولت ہے ، گناہوں سے بچے رہنا بہت انمول نعمت ہے ، گناہوں میں مبتلا ہونا بالخصوص بڑھاپا آنے کے بعد بہت بڑی مصیبت ہے ۔
طَاعَۃُ اللہِ خَیْرُ مَا اکْتَسَبَ الْعَبْدُ فَکُنْ طَائِعًا لِلہِ لَا تَعْصِیَنْہٗ
مَا ہَلَاکُ النُّفُوْسِ اِلَّا الْمَعَاصِیْ فَاجْتَنِبْ مَا نَہَاکَ لَا تَقْرَبَنْہٗ
اِنَّ شَیْئًا ہَلَاکُ نَفْسِکَ فِیْہِ یَنْبَغِیْ اَنْ تَصُوْنَ نَفْسَکَ عَنْہُ
ترجمہ : اللہ پاک کی فرمانبرداری بندے کے لئے بہترین کمائی ہے ، تو اللہ کا فرمانبردار بن جا! ہرگز اُس کی نافرمانی نہ کر! ۔ جانوں کو گناہ ہی ہلاک کرتے ہیں ، لہٰذا اللہ پاک نے جس کام سے منع کیا اُس سے دُور رہ اس کے قریب بھی نہ جا! ۔ جس چیز میں تیری جان کی ہلاکت ہو اس سے تجھے بچنا ضروری ہے ۔
گناہوں کے شفا خانے :
اے گمشدہ دل والے ! اپنے دل کو ذکر خدا کی محفل میں تلاش کر! امید ہے تجھے مل جائے گا ۔ اے بیمار دل والے ! اپنے دل کو اٹھا اور ذکر الٰہی کی مجلس میں لے جا! بہت جلدتندرست ہو جائے گا ۔ جس طرح دنیا کے شفا خانوں میں جسمانی امراض کا علاج ہوتا ہے یونہی ذکر الٰہی کی محفلیں گناہوں کے شفا خانے ہیں ان میں دلوں کے امراض کا علاج ہوتا ہے ۔ جس طرح دنیا والوں کی آنکھیں باغوں کیاریوں سے فرحت پاتی ہیں یونہی ذکرِ الٰہی کی محفلیں مؤمنوں کے دلوں کے لئے فرحت بخش جگہیں ہیں ۔
ہماری یہ بیٹھک عاجزی کی کیاری میں ایک نشست ہے ، یہاں بھوک ہمارا کھانا ہے اور آنسو ہمارا مشروب ہیں ، سُننے والا کلام ہمارا میوہ ہیں ، یہاں ہم اُن بیماریوں کا علاج کررہے ہیں جن کے سامنے جالینوس اور بَخْتَیْشوع جیسے طبیب بھی عاجز آگئے ، ہم گناہوں کا تریاق پلارہے ہیں ، نافرمانیوں سے کنارہ کشی کا شربت پلارہے ہیں ، جو پئے