وَلِلْقَلْبِ عَلَی الْقَلْبِ دَلِیْــلٌ حِیْــنَ یَلْقَاہُ
ترجمہ : جاہل کی صحبت میں نہ جاؤ ، انہیں دُور رکھو خود دُور رہو ۔ کتنے ہی جاہلوں نے دانشوروں کو تباہ کیا ، جب دانشور نے جاہل کو بھائی بنایا ۔ آدمی دوسرے آدمی کے ساتھ چلتا ہے تو ایک کو دوسرے پر ہی قیاس کیا جاتا ہے ۔ چیز کو دوسری چیز پر قیاس کیا جاتا ہے اور دوسری چیز جیسا سمجھا جاتا ہے ۔ دل دوسرے دل کو راہ دکھاتا ہے جب ملاقات ہوتی ہے ۔
گنہگار اپنے لئے بھی اور دوسرے کے لئے بھی منحوس ہے ، یہ خوف رہتا ہے کہ اس پر عذاب اترے اور دوسرے لوگ بھی لپیٹ میں آجائیں بالخصوص وہ لوگ جو گنہگار کے عمل کو بُرا نہیں سمجھتے تھے ، بہر حال! گنہگار سے دُور رہنا ہی ضروری ہے ، کیونکہ جب گندگی بہت ہوجاتی ہے تو مرگِ عام پھیل جاتی ہے ۔
گناہ اور عذاب کی جگہ سے درو رہو :
یونہی گناہوں کی جگہوں اور گناہوں کی سزا والی جگہوں سے بھی دُور رہنا ضروری ہے ، وہاں سے بھاگنا ضروری ہے کہ کہیں ہم پر بھی عذاب نہ نازل ہوجائے ، جیساکہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب مقامِ حِجْر میں ثَمود والوں کے کھنڈرات سے گزرے تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو حکم فرمایا : ” ان عذاب والوں کے یہاں روتے ہوئے ہی داخل ہونا ، اس ڈر سے کہ کہیں تمہیں بھی وہ عذاب نہ پہنچے جو انہیں پہنچا تھا ۔ “ ( 1)
قاتل کی بخشش :
سو انسانوں کے قاتل اسرائیلی نے جب توبہ کی اور اسرائیلی عالِم سے پوچھا : کیا میری توبہ قبول ہو گی؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ۔ اسرائیلی عالِم نے اُس توبہ کرنے والے کو بُری بستی چھوڑ کر نیکوں کی بستی میں منتقل ہونے کا کہا ۔ لیکن دونوں بستیوں کے بیچ اُسے موت نے آلیا ۔ رحمت اور عذاب کے فرشتے اُس کے بارے میں جھگڑنے لگے ۔ اللہ پاک نے اُن کی طرف وحی فرمائی کہ دونوں بستیوں کا درمیانی فاصلہ ناپو ، وہ جس بستی کے قریب ہو اُس کے ساتھ ملا دو ۔ دیکھا تو وہ پتھر پھینکنے جتنا فاصلہ نیک بستی سے قریب تھا ، چنانچہ اُسے بخش دیا گیا ۔
گناہ کی جگہوں اور گناہ والوں کو چھوڑنا بھی اس ہجرت میں شامل ہے جس کا حکم فرمایا گیا ہے ، کیونکہ مہاجر وہ ہے جو اللہ پاک کے منع کردہ کاموں کوچھوڑ دے ۔
________________________________
1 - بخاری ، کتاب الصلاة ، باب الصلاة فی مواضع الخسف والعذاب ، ۱ / ۱۶۶ ، حدیث : ۴۳۳