درحقیقت خُدا کی نافرمانی اور گُناہ نحوست ہے اور اللہ پاک کی فرمانبرداری اور تقوٰی برکت ہے ۔
اِنَّ رَاْیًا دَعَا اِلٰی طَاعَۃِ اللہِ لَرَاْیٌ مُبَارَکٌ مَیْمُوْنٌ
ترجمہ : بے شک جو سمجھ اللہ پاک کی فرمانبرداری کی طرف بُلائے وہ ضرور برکت والی اور مبارک سمجھ ہے ۔
اُڑ کر لگنے والی بیماری :
وہ اُڑ کے لگنے والی بیماری جو اپنے قریب آنے والوں کو ہلاک کردیتی ہے وہ گناہوں کی بیماری ہے ، جو اس کے قریب جاتا ہے ، اس سے میل جول بڑھاتا ہے ، اس پر اصرار کرتا ہے وہ تباہی کے گھاٹ اُتر جاتا ہے ۔ یونہی گناہ گاروں سے میل جول بھی تباہ کُن اور اُڑ کے لگنے والی بیماری ہے ۔ جو انسانی شیطان گناہوں کی تعریف کرے ، انہیں آراستہ دکھائے اور اُن کی طرف بُلائے تو اُس کی صحبت بھی اُڑ کے لگنے والی بیماری ہے ۔
انسانی شیطان جناتی شیطانوں سے زیادہ نقصان دیتے ہیں ۔ ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جناتی شیطان سے تُم اللہ کی پناہ مانگو ( اعوذ باللہ پڑھو) تو وہ لوٹ جاتا ہے ، لیکن انسانی شیطان ڈھیٹ بن کے ٹھہرا رہتا ہے جب تک تمہیں کسی مصیبت میں نہ ڈال دے ۔
حدیثِ پاک میں ہے : ” آدمی اپنے دوست کے دین پر اٹھایا جائے گا ، لہٰذا تم میں سے ہر ایک دیکھے کہ وہ کس کو گہرا دوست بنائے ہوئے ہے ۔ (1 ) “
دوسری حدیثِ پاک میں ہے : ” مؤمن ہی کی صحبت اختیار کرو اور تمہارا کھانا پرہیزگار ہی کھائے ۔ “ ( 2)
مولائے کائنات امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے یہ اشعار مروی ہیں :
فَلَا تَصْحَبْ اَخَا الْجَہْلِ وَاِیَّـــــــاکَ وَاِیَّـــــــاہُ
فَکَمْ مِنْ جَاہِلٍ اَرْدٰی حَکِیْمًا حِیْــــنَ آخَاہُ
یُقَاسُ الْمَرْءُ بِالْمَرْءِ اِذَا مَا الْمَرْءُ مَاشَاہُ
وَلِلشَّیْئِ عَلَی الشَّیْئِ مَقَایِــیْـسُ وَاَشْـبَاہُ
________________________________
1 - ترمذی ، کتاب الزھد ، باب ۴۵ ، ۴ / ۱۶۷ ، حدیث : ۲۳۸۵
2 - ترمذی ، کتاب الزھد ، باب ماجاء فی صحبة المومن ، ۴ / ۱۷۷ ، حدیث : ۲۴۰۳