اور یونہی کچھ شرعی اوراد ووظائف سے بھی بلائیں دُور ہوتی ہیں ۔
دُعابرائے دفعِ بلاء :
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حدیث میں ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : جو صبح وشام یہ کہے : بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاءِ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمتو اُسے کوئی بلاء نہ پہنچے گی ۔ (1 )
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ مُعلِّم کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ” نحوست بداخلاقی ہے ۔ “ ( 2) دوسری جگہ یہ الفاظ ہیں : ” برکت خوش اخلاقی ہے ۔ “ (3 )
حاصلِ کلام : نحوست صرف گناہ اور اللہ کی نافرمانیاں ہیں ، کیونکہ گناہ اور نافرمانی سے اللہ پاک ناراض ہوتا ہے اور جب اللہ پاک اپنے بندے سے ناراض ہو تو اس کی دنیا وآخرت میں بد بختی ہے ، یونہی جیسے وہ اپنے بندے سے راضی ہو تو اس کی دنیا وآخرت میں خوش بختی ہے ۔
ایک نیک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے عرض کی گئی کہ لوگ آفت میں مبتلا ہیں ۔ فرمایا : میں تو تم لوگوں کو گناہوں کی نحوست کے سبب ہی اس آفت میں دیکھ رہا ہوں ۔
حضرت سیِّدُنا ابو حَازِم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جو گھر والے ، اولاد یا مال تمہیں اللہ پاک کی یاد سے غافل کریں وہ تمہارے لئے منحوس ہیں ۔
فَلَا کَانَ مَا یُلْہِیْ عَنِ اللہِ اِنَّہٗ یَضُرُّ وَیُؤْذِیْ اِنَّہٗ لَمَشْؤُوْمُ
ترجمہ : وہ نہ رہے ! جو یادِ خُدا سے غافل کرے کہ وہ ضرور نقصان دہ ، تکلیف دہ اور منحوس ہے ۔
________________________________
1 - ترمذی ، کتاب الدعوات ، باب ماجاء فی الدعاء اذا اصبح واذا امسی ، ۵ / ۲۵۰ ، حدیث : ۳۳۹۹
ابو داود ، کتاب الادب ، باب مایقول اذا اصبح ، ۴ / ۴۱۸ ، حدیث : ۵۰۸۸
2 - مسند احمد ، مسند السیدة عائشة ، ۹ / ۳۶۹ ، حدیث : ۲۴۶۰۱
3 - مسند شھاب ، باب البر حسن الخلق ، ۱ / ۶۶ ، حدیث : ۵۴