Brailvi Books

فیضان صفر المظفر
21 - 29
اور یونہی کچھ شرعی اوراد ووظائف سے بھی بلائیں دُور ہوتی ہیں ۔ 
دُعابرائے دفعِ بلاء : 
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی حدیث میں ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : جو صبح وشام یہ کہے : بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاءِ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمتو اُسے کوئی بلاء نہ پہنچے گی ۔ (1 ) 
	اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ مُعلِّم کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ” نحوست بداخلاقی ہے ۔  “ ( 2) دوسری جگہ یہ الفاظ ہیں : ” برکت خوش اخلاقی ہے ۔  “ (3 ) 
حاصلِ کلام : نحوست صرف گناہ اور اللہ کی نافرمانیاں ہیں ، کیونکہ گناہ اور نافرمانی سے اللہ پاک ناراض ہوتا ہے اور جب اللہ پاک اپنے بندے سے ناراض ہو تو اس کی دنیا وآخرت میں بد بختی ہے ، یونہی جیسے وہ اپنے بندے سے راضی ہو تو اس کی دنیا وآخرت میں خوش بختی ہے ۔ 
ایک نیک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے عرض کی گئی کہ لوگ آفت میں مبتلا ہیں ۔  فرمایا : میں تو تم لوگوں کو گناہوں کی نحوست کے سبب ہی اس آفت میں دیکھ رہا ہوں ۔ 
حضرت سیِّدُنا ابو حَازِم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جو گھر والے ، اولاد یا مال تمہیں اللہ پاک کی یاد سے غافل کریں وہ تمہارے لئے منحوس ہیں ۔ 
فَلَا کَانَ مَا یُلْہِیْ عَنِ اللہِ اِنَّہٗ		یَضُرُّ وَیُؤْذِیْ اِنَّہٗ لَمَشْؤُوْمُ
ترجمہ : وہ نہ رہے ! جو یادِ خُدا سے غافل کرے کہ وہ ضرور نقصان دہ ، تکلیف دہ اور منحوس ہے ۔



________________________________
1 -    ترمذی ، کتاب الدعوات ، باب ماجاء فی الدعاء اذا اصبح واذا امسی ، ۵ /  ۲۵۰ ، حدیث : ۳۳۹۹
	ابو داود ، کتاب الادب ، باب مایقول اذا اصبح ، ۴ /  ۴۱۸ ، حدیث : ۵۰۸۸
2 -    مسند احمد ، مسند السیدة عائشة ، ۹ /  ۳۶۹ ، حدیث : ۲۴۶۰۱
3 -    	مسند شھاب ، باب البر حسن الخلق ، ۱ /  ۶۶ ، حدیث : ۵۴