حضرت سیِّدُنا سَلمان فَارِسیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضورِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : قضا کو دُعا ہی لوٹاسکتی ہے ۔ (1 )
دَم درود اور دُعا بھی تقدیرسے ہی ہے :
حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : تقدیر کے آگے تدبیر کچھ کام نہیں دیتی ، ہاں! اللہ پاک دُعا کی برکت سے جو چاہتا ہے نَوِشْتۂ تقدیر سے مٹادیتا ہے ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ” دُعا تقدیر کو دُور کردیتی ہے اور جب تقدیر کو دُور کرتی ہے تو یہ بھی تقدیر سے ہی ہوتا ہے ۔ “ یہ ویسا ہی قول ہے جیسا کہ بارگاہِ رسالت میں دَواؤں اورجھاڑ پھونک کے متعلق سوال ہوا کہ کیا یہ تقدیر میں سے کچھ لوٹادیتے ہیں؟ تو پیارے آقا مدینے ، والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : یہ بھی اللہ پاک کی تقدیر سے ہی ہیں ۔ (2 )
یونہی حضرت سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ طاعون کی وجہ سے واپس لوٹ آئے تو حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی : کیا اللہ پاک کی تقدیر سے بھاگتے ہیں؟ امیر المؤمنین نے فرمایا : ہم اللہ پاک کی تقدیر سے اللہ پاک کی تقدیر ہی کی طرف بھاگ رہے ہیں ، کیونکہ اللہ پاک ہی تقدیریں بناتا ہے اور وہ چیزیں بھی مقدر فرماتا ہے جو بعض تقدیروں کو واقع ہونے سے پہلے دُور کردیتی ہیں ۔ ( 3)
________________________________
1 - ترمذی ، کتاب القدر ، باب ماجاء لا یرد القدر الا الدعاء ، ۴ / ۵۴ ، حدیث : ۲۱۴۶
2 - ترمذی ، کتاب الطب ، باب ماجاء فی الرقی والادویة ، ۴ / ۱۶ ، حدیث : ۲۰۷۲
3 - طاعون عمواس شام میں تھا امیرالمومنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وہاں کے عزم سے روانہ ہوچکے تھے ، جب سرحدِ شام وحجاز موضع سرغ پرپہنچے ہیں خبرپائی کہ شام میں بشدّت طاعون ہے امیرالمومنین نے مہاجرین کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے مشورہ کیا بعض نے کہا : حضرت کام کے لئے چلے ہیں رجوع نہ چاہئے بعض نے کہا : حضرت کے ساتھ بقیہ اصحابِ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں ہماری رائے نہیں کہ انہیں وبا پرپیش کریں ، پھرانصارِ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو بلایا وہ بھی یوہیں مختلف ہوئے پھر اکابر مومنین فتح کو بلایا انہوں نے بالاتفاق نہ جانے کی رائے دی امیرالمومنین نے واپسی کی نداکردی ، اس پر حضرت ابوعبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا : أَفَرارٌ مِّنْ قَدَرِاﷲکیا تقدیرالٰہی سے بھاگنا؟ امیرالمومنین نے فرمایا : کاش کوئی اور ایسا کہتا ، نَعَمْ نَفِرُّمِنْ قَدَرِاﷲِ اِلٰی قَدَرِاﷲ ہاں ہم تقدیرالٰہی سے تقدیرالٰہی کی طرف بھاگتے ہیں ۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کسی کام کو گئے ہوئے تھے جب واپس آئے انہوں نے کہا مجھے اس مسئلہ کے حکم کا علم ہے میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوفرماتے سنا : اِذَا سَمِعْتُمْ بِہِ بِاَرْضٍ فَلَاتُقَدِّمُوْا عَلَیْہِ وَاِذَا وَقَعَ بِاَرْضٍ وَاَنْتُمْ بِھَا فَلَاتَخْرُجُوْا فِرَارًامِنْہ ۔ جب تم کسی زمین میں طاعون ہوناسنو تو وہاں طاعون کے سامنے نہ جاؤ اور جب تمہاری جگہ واقع ہو تو اس سے بھاگنے کو نہ نکلو ۔ اس پر امیرالمومنین حمدالٰہی بجالائے کہ ان کا اجتہاد موافق ارشاد واقع ہوا اور واپس ہوگئے ۔ ایسی جگہ نَفْرٌمِّنْ قَدَرِاﷲ اِلٰی قَدَرِاﷲ کہناٹھیک ہے کہ موافق حکم ہے ۔ ( فتاوی رضویہ ، ۲۴ / ۲۰۴)