حضرت سیِّدُنا عدی بن حَاتم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : آدمی کی سب سے مبارک اور سب سے منحوس چیز اس کے جبڑوں کے درمیان ہے یعنی زبان ۔
حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں : ” غلاموں سے اچھا سلوک بڑھوتری ہے اور اُن سے بدسلوکی نحوست ہے ، بھلائی عمر میں اضافہ ہے اور صدقہ بُری موت کو دُور کرتا ہے ۔ “ (1 ) تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بدسلوکی کو نحوست سے تعبیر فرمایا ۔
دوسری حدیثِ پاک میں ہے : ” جنت میں بُرا آقا نہیں جائے گا ۔ “ (2) یعنی جو اپنے غلاموں سے بدسلوکی کرتا ہو اور ان پر ظلم کرتا ہو ۔
حدیثِ پاک میں ہے : بے شک صدقہ بُری موت کو دُور کرتا ہے ۔ ( 3)
صدقہ نحوست کو دُور کرتا ہے :
حضرت سیِّدُنا مولیٰ علیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ حضور رحمتِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : صبح سویرے صدقہ کرو کیونکہ بلا صدقے سے آگے نہیں بڑھتی ۔ ( 4)
دوسری حدیثِ پاک میں ہے : ” ہر دن کی ایک نحوست ہوتی ہے لہٰذا اس دن کی نحوست کو صدقہ کے ذریعے دُور کرو ۔ “ ( 5) کہ صدقہ وہ عظیم عمل ہے جو بلا کے اسباب اکٹھے ہوجانے کے بعد بھی بلا کو دُور کردیتا ہے ، یونہی دُعا کی بھی برکت ہے ۔
حدیثِ پاک میں ہے : بے شک بلا اور دُعا آسمان وزمین کے بیچ ملاقات کرتے ہیں اور پھر قیامت تک جھگڑتے رہتے ہیں ۔ ( 6)
________________________________
1 - مسند احمد ، مسند المکیین ، ۵ / ۴۴۱ ، حدیث : ۱۶۰۷۹ ، بتغیر قلیل
2 - ترمذی ، کتاب البر والصلة ، باب ماجاء فی الاحسان الی الخدم ، ۳ / ۳۸۰ ، حدیث : ۱۹۵۳
3 - ترمذی ، کتاب الزکاة ، باب ماجاء فی فضل الصدقة ، ۲ / ۱۴۶ ، حدیث : ۶۶۴
4 - معجم اوسط ، ۴ / ۱۸۰ ، حدیث : ۵۶۴۳
5 - کنزالعمال ، کتاب الاذکار ، باب فی القران ، ۲ / ۲۰۴ ، حدیث : ۴۵۵۶
6 - مسند بزار ، مسند ابی ھریرة ، ۱۴ / ۴۰۰ ، حدیث : ۸۱۴۹