Brailvi Books

فیضان صفر المظفر
19 - 29
حضرت سیِّدُنا عدی بن حَاتم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں : آدمی کی سب سے مبارک اور سب سے منحوس چیز اس کے جبڑوں کے درمیان ہے یعنی زبان ۔ 
حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں : ” غلاموں سے اچھا سلوک بڑھوتری ہے اور اُن سے بدسلوکی نحوست ہے ، بھلائی عمر میں اضافہ ہے اور صدقہ بُری موت کو دُور کرتا ہے ۔  “ (1 ) تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بدسلوکی کو نحوست سے تعبیر فرمایا ۔ 
دوسری حدیثِ پاک میں ہے : ” جنت میں بُرا آقا نہیں جائے گا ۔  “ (2)  یعنی جو اپنے غلاموں سے بدسلوکی کرتا ہو اور ان پر ظلم کرتا ہو ۔ 
حدیثِ پاک میں ہے : بے شک صدقہ بُری موت کو دُور کرتا ہے ۔ ( 3) 
صدقہ نحوست کو دُور کرتا ہے : 
حضرت سیِّدُنا مولیٰ علیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ حضور رحمتِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : صبح سویرے صدقہ کرو کیونکہ بلا صدقے سے آگے نہیں بڑھتی ۔ ( 4) 
دوسری حدیثِ پاک میں ہے : ” ہر دن کی ایک نحوست ہوتی ہے لہٰذا اس دن کی نحوست کو صدقہ کے ذریعے دُور کرو ۔  “ ( 5) کہ صدقہ وہ عظیم عمل ہے جو بلا کے اسباب اکٹھے ہوجانے کے بعد بھی بلا کو دُور کردیتا ہے ، یونہی دُعا کی بھی برکت ہے ۔ 
حدیثِ پاک میں ہے : بے شک بلا اور دُعا آسمان وزمین کے بیچ ملاقات کرتے ہیں اور پھر قیامت تک جھگڑتے رہتے ہیں ۔ ( 6) 



________________________________
1 -    مسند احمد ، مسند المکیین ، ۵ /  ۴۴۱ ، حدیث : ۱۶۰۷۹ ، بتغیر قلیل
2 -    ترمذی ، کتاب البر والصلة ، باب ماجاء فی الاحسان الی الخدم ، ۳ /  ۳۸۰ ، حدیث : ۱۹۵۳
3 -    ترمذی ، کتاب الزکاة ، باب ماجاء فی فضل الصدقة ، ۲ /  ۱۴۶ ، حدیث : ۶۶۴
4 -    معجم اوسط ، ۴ /  ۱۸۰ ، حدیث : ۵۶۴۳
5 -    کنزالعمال ، کتاب الاذکار ، باب فی القران ، ۲ /  ۲۰۴ ، حدیث : ۴۵۵۶
6 -    مسند بزار ، مسند ابی ھریرة ، ۱۴ /  ۴۰۰ ، حدیث : ۸۱۴۹