Brailvi Books

فیضان صفر المظفر
18 - 29
 یعنی یہ تینوں وہ اسباب ہیں جن کے ساتھ اللہ پاک نحوست یا برکت مقدر فرماتا ہے اور نحوست یا برکت ان کے ساتھ مِلاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ جو آدمی زوجہ ، کنیز یا جانور سے فائدہ حاصل کرنا چاہے وہ اللہ پاک کی بارگاہ میں ان کی بھلائی اور ان کی فطرت کی بھلائی کا سوال کرے ، ان کے شر سے اور ان کی فطرت کے شر سے اللہ پاک کی پناہ مانگے جیسا کہ حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی حدیثِ نبوی میں ہے ۔ 
یونہی کسی گھر میں رہائش اختیار کرنے والے کو بھی یہی کرنا چاہیے ۔  کچھ لوگ ایک گھر میں قیام پذیر ہوئے تو ان کی تعداد گھٹ گئی ، مال میں کمی آگئی تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان لوگوں کو فرمایا : ” اس بُرے گھر کو چھوڑ دو ۔  “  ( 1) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو جس گھر ، زوجہ یا جانور میں برکت نہ ملے تو اُسے چھوڑ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ 
یونہی جو کسی چیز کی تجارت کرے اور تین مرتبہ تک بھی نفع نہ ملے تو اُس سے پھر جائے ۔  یہ حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے اور اگر کسی چیز میں برکت ملے تو اسے نہ چھوڑے کہ حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مرفوعاً روایت ہے : ” جب تم میں سے کسی کو کسی چیز میں رزق مل رہا ہو تو اُسے نہ چھوڑے جب تک وہ چیز خود تبدیل نہ ہوجائے یا اس کے لئے نا مناسب نہ ہوجائے ۔  “ (2 ) 
اصل نحوست گناہ ہے : 
رہی بات نحوست کو کسی خاص زمانے جیسے صفر المظفر وغیرہ کے ساتھ خاص سمجھنا تو یہ بالکل غلط ہے ، سب زمانہ اللہ پاک کا پیدا کردہ ہے ، اسی میں آدمیوں کے افعال ہوتے ہیں ، چنانچہ جس زمانے کو بندۂ  مؤمن اللہ پاک کی فرمانبرداری میں لگائے وہ زمانہ اس کے لئے بہت مبارک اور برکت والا زمانہ ہے اور جس زمانے کو بندہ اللہ پاک کی نافرمانی میں گزارے وہ اس کے لئے نحوست کا زمانہ ہے ۔   نحوست در اصل اللہ پاک کی نافرمانی میں ہے جیسا کہ حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا : اگر کسی چیز میں نحوست ہے تو وہ دو جبڑوں کے بیچ یعنی زبان میں ہے ۔  اور فرماتے ہیں : زبان سے بڑھ کر کوئی بھی شے طویل قید کی مستحق نہیں ۔ 



________________________________
1 -    ابو داود ، کتاب الطب ، باب فی الطیرة ، ۴ /  ۲۷ ، حدیث : ۳۹۲۴
2 -    ابن ماجہ ، کتاب التجارات ، باب اذا قسم للرجل رزق من وجہ فلیزمہ ، ۳ /  ۱۱ ، حدیث : ۲۱۴۸