Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
83 - 85
عشق میں خشک لکڑی روئی لوگو!  تم تو یادِ مصطفے ٰ کے زیادہ حقدار ہو ۔ 
نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دُنیا سے پردہ فرمایا تو تدفین سے پہلے تک مؤذِّنِ رسول، حضرت سیِّدُنا بلال حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  اذان دیتے تھے ، جب اذان میں اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ (میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ پاک کے رسول ہیں) کہتے تو آہوں سسکیوں کی آواز سے مسجد کے در ودیوار دہل جاتے تھے ۔ پھر جب رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تدفین مبارک ہوگئی تو حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے اذان دینا چھوڑ دیا ۔ 
محبوب سے جُدا ہونے والوں کی زندگانی کتنی تلخ ہے ، بالخصوص جبکہ محبوب کا دیدار ہی دوستوں کی زندگی تھا ۔ 
لَوْ ذَاقَ طَعْمَ الْفِرَاقِ رَضْوٰی		لَکَادَ مِنْ وَجْدِہٖ یَمِیْدُ
قَدْ حَمَّلُوْنِیْ عَذَابَ شَوْقٍ		یَعْجِزُ عَنْ حَمْلِہٖ الْحَدِیْدُ

ترجمہ: (۱)…رَضْوٰی پہاڑ اگر جُدائی کی کڑواہٹ چکھ لیتا تو قریب تھا کہ محبت سے کانپنے لگتا ۔ (۲)…انہوں نے مجھ پر ایسے شوق کا عذاب ڈال دیا جسے فولاد بھی نہ اٹھاسکے ۔ 
جب سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تدفین مبارک ہوئی تو حضرت بتول زہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: اے انس!  تمہارے دلوں نے کیونکر گوارا کیا کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے جسم اطہر کو خاک میں پنہاں کرو ۔ 
حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں: جس روز حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مدینہ میں تشریف لائے تھے اس کی ہر چیز روشن ہوگئی تھی اور جس روز آپ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَام کی وفات ہوئی ہے اس کی ہر چیز اُداس ہوگئی ہے اور بعد تدفین ابھی مٹی سے ہاتھ بھی نہ جھاڑے تھے کہ ہم نے اپنے دلوں کو بدلا ہوا پایا ۔ 
لِیَبْکِ رَسُوْلَ اللہِ مَنْ کَانَ بَاکِیًا		فَلَا تَنْسَ قَبْرًا بِالْمَدِیْنَۃِ ثَاوِیًا
جَزَی اللہُ عَنَّا کُلَّ خَیْرٍ مُحَمَّدًا		فَقَدْ کَانَ مَہْدِیًّا وَقَدْ کَانَ ہَادِیًا
وَکَانَ رَسُوْلُ اللہِ روْحًا وَرَحْمَۃً		وَنُوْرًا وَبُرْہَانًا مِنَ اللہِ بَادِیًا
وَکَانَ رَسُوْلُ اللہِ بِالْخَیْرِ آمِرًا		وَکَانَ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالسُّوْ ءِ نَاہِیًا