Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
82 - 85
وَاِذَا اَتَـتْـکَ مُـصِیْبَـۃٌ تُـشْـجٰی بِـہَا		فَاذْکُــرْ مُـصَابَکَ بِالنَّـبِیِّ مُـحَـمَّدٍ
ترجمہ: (۱)…ہر مصیبت پر صبر کا دامن تھامو اور ہمت سے کام لو، جان لو!  آدمی ہمیشہ نہیں رہتا ۔ (۲)…صبر کرو جیسے بزرگوں نے صبر کیا، یہ تو کچھ آزمائشوں کے بادل ہیں جو آج چھائے ہوئے ہیں کَل چَھٹ جائیں گے ۔ (۳)…تمہیں کوئی غمزدہ کرنے والی مصیبت آئے تو پیارے نبی حضرت محمدِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فراق کی مصیبت کو یاد کرلو ۔ 
ایک شاعر کہتا ہے : 
تَـذَکَّرْتُ لَـمَّـا فَـرَّقَ الـدَّہْـرُ بَیْنَنَا		فَـعَـزَّیْتُ نَـفْـسِـیْ بِـالنَّبِیِّ مُـحَـمَّـدٍ
وَقُلْـتُ لَـہَا اِنَّ الْـمَـنَـایَا سَـبِـیْلُنَا		فَمَنْ لَمْ یَمُتْ فِیْ یَوْمِہٖ مَاتَ فِیْ غَدٍ

ترجمہ: (۱)…جب زمانے نے ہمیں جُدا کیا تو میں نے سوچا اور خود کو جانِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فراق کی مصیبت سے تسلی دی ۔ (۲)…میں نے خود سے کہا: ہمارا راستہ مَوت کی طرف جاتا ہے ، جو آج نہیں مرا وہ کَل مَرجائے گا ۔ 
پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فراق سے جمادات اور بے جان چیزوں کے کلیجے بھی پھٹنے لگتے ہیں، تو پھرمسلمانوں کے دلوں کا کیا حال ہو گا؟؟؟
فراقِ مصطفٰے میں خشک تَنے کی ہچکیاں: 
منبر شریف بننے سے پہلے محبوبِ کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے ، جب منبر شریف بن گیا اور اُس تنے کو رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قُرب نہ ملا تو وہ فراقِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں بے قرار ہوگیا اور بچوں کی طرح بِلَک بِلَک کر رونے لگا، غم گسار آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم منبر شریف سے نیچے تشریف لائے اور اُس تنے کو سینے سے چمٹالیا، وہ تنا اس طرح سسکیاں لینے لگا جیسے روتے بچے کو دلاسہ دے کر چپ کروایا جائے  تو وہ بچہ سسکیاں لیتا ہے ۔ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ”اگر میں اسے اپنے سینے سے نہ لگاتا تو یہ قیامت تک روتا ہی رہتا ۔  “ (1)
حضرت خواجہ حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب یہ حدیث پڑھتے تو بہت روتے اور فرماتے : حضور کے 



________________________________
1 -     ابن ماجہ، کتاب اقامة الصلاة  ، باب ماجاء فی بدء شان المنبر، ۲ /  ۱۷۸، حدیث: ۱۴۱۵، بتغیر قلیل