عَلٰی مِثْلِ لَیْلٰی یَقْتُلُ الْمَرْءُ نَفْسَہٗ وَاِنْ کَانَ مِنْ لَیْلٰی عَلَی الْہَجْرِ طَاوِیًا
ترجمہ: لیلیٰ جیسی پر ہی آدمی اپنی جان لے لیتا ہے ، اگرچہ پہلے ہی لیلیٰ کی جُدائی پر ذہنی طور پر تیّار تھا ۔
فراقِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آگے ہر مصیبت ہیچ ہے ۔
محبوب کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مرض الموت میں ارشاد فرمایا: اے لوگو! اگر لوگوں میں یا مسلمانوں میں کسی کو کوئی مصیبت پہنچے تو وہ میری (یعنی میرے فراق کی) مصیبت یاد کرلے اور اپنی حالیہ مصیبت سے خود کو تسلی دے ، بے شک میرے کسی امتی کو میرے بعد میری (جدائی کی) مصیبت سے بڑی کوئی مصیبت نہ پہنچے گی ۔ (1) “ (2)
امام ابو الجوزاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: اہل مدینہ میں سے کسی کو مصیبت پہنچتی تو کوئی بھی مسلمان بھائی اس کے پاس آکر اس سے ہاتھ ملاتا اور کہتا: اے اللہ کے بندے ! اللہ پاک پر بھروسا رکھ! بے شک ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (کے فراق) میں ہمارے لئے نمونۂ عمل ہے ۔
اِصْبِرْ لِکُلِّ مُصِیْبَۃٍ وَتَجَلَّدِ وَاعْلَمْ بِاَنَّ الْمَرْءَ غَیْرُ مُخَلَّدٍ
وَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ الْکِرَامُ فَاِنَّہَا نُوَبٌ تَنُوْبُ الْیَوْمَ تُکْشَفُ فِیْ غَدٍ
________________________________
1 - ایسی ایک حدیثِ پاک کی وضاحت کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: یعنی میری امت کے لئے جیسی مصیبت اور تکلیف کا باعث میری وفات ہے ایسی انہیں کوئی مصیبت نہیں ۔ اور یہ حقیقت بھی ہے ، جن لوگوں نے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی وفات دیکھی اُن پر جو مصیبت پڑی وہ تو وہی جان سکتے ہیں ۔ آج جس وقت حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم یاد آتے ہیں تو عاشقوں کے کلیجے پھٹ جاتے ہیں ۔ مدینہ منوّرہ سے چلتے وقت زائرین کا جو حال ہوتا ہے وہ نہ پوچھو، مدینہ کے در و دیوار کا فراق ستاتاہے ۔ میں نے مسجد نبوی شریف کی چوکھٹ سے لپٹ کر لوگوں کو روتے دیکھا ہے ؎
بدن سے جان نکلتی ہے آہ سینہ سے ترے فدائی نکلتے ہیں جب مدینہ سے
فقیر نے تیسرے حج پر رخصت کے وقت مدینہ کے درو دیوار سے عرض کیا تھا ؎
جا رہا ہے اب ہمارا قافلہ اے در و دیوارِ شہرِ مصطفے ٰ
یاد تیری جس گھڑی بھی آئے گی ہے یقیں دل کو بہت تڑپائے گی
(مراٰۃ المناجیح، ۲ / ۵۰۶)
2 - ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی الصبر علی المصیبة، ۲ / ۲۶۷، حدیث: ۱۵۹۹