Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
80 - 85
 اللہ پاک کی عبادت کرتا تھا تو بے شک اللہ پاک زندہ ہے اُسے کبھی موت نہ آئے گی ۔ پھر صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے یہ آیت تلاوت کی: 
وَ  مَا  مُحَمَّدٌ  اِلَّا  رَسُوْلٌۚ-قَدْ  خَلَتْ  مِنْ  قَبْلِهِ  الرُّسُلُؕ-اَفَاۡىٕنْ  مَّاتَ  اَوْ  قُتِلَ  انْقَلَبْتُمْ  عَلٰۤى  اَعْقَابِكُمْؕ-وَ  مَنْ  یَّنْقَلِبْ  عَلٰى  عَقِبَیْهِ  فَلَنْ  یَّضُرَّ  اللّٰهَ  شَیْــٴًـاؕ-وَ  سَیَجْزِی  اللّٰهُ  الشّٰكِرِیْن(۱۴۴) (پ۴، اٰل عمرٰن: ۱۴۴)
ترجمۂ کنز الایمان: اور محمد تو ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول ہوچکے تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم اُلٹے پاؤں پھر جاؤ گے اور جو الٹے پاؤں پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا ۔ 
حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے جب مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ تلاوت کی تو سب لوگوں کو یقین ہوگیا کہ نبیّ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دُنیا سے پردہ فرماگئے ہیں، یوں لگتا تھا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی تلاوت سے پہلے انہوں نے یہ آیت گویا سُنی ہی نہ تھی، لوگوں نے اُن سے یہ آیت  سنی اور ہر کوئی یہی آیت تلاوت کرنے لگا ۔ 
شہزادیٔ کونین، خاتونِ جنت حضرت سیِّدَتُنا بی بی فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کہنے لگیں: اے میرے بابا!  اللہ پاک کے بلانے پرتشریف لے گئے ، اے میرے بابا جان! فردوس کے باغ آپ کاٹھکانا ہیں، آہ میرے بابا!  ہم آپ کے انتقال کی تعزیت جبریل سے بیان کرتے ہیں، (1) اے میرے بابا!  آپ اپنے رب کے کتنے قُرب میں ہیں ۔ حضرت سیّدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اس کے بعد صرف چھ مہینے دُنیا میں رہیں اور اس عرصہ میں اُن کے چہرے پر کبھی ہنسی نہ آئی، واقعی!  یہ اُن کا حق تھا ۔ 



________________________________
1 -     خیال رہے کہ سیِّدہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کے یہ الفاظ نہ تو نوحہ ہیں نہ بے صبری بلکہ حضور کے فراق پر بے چینی ہے جو بذات خود عبادت ہے ۔ نوحہ یہ ہے کہ میت کے ایسے اوصاف بیان کیے جاویں جو اس میں نہ ہوں اور پیٹا جاوے ۔ بے صبری یہ ہے کہ رب تعالیٰ کی شکایت کی جاوے ، جنابِ سیِّدہ اِن دونوں سے محفوظ ہیں ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۸ / ۲۹۱) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: حضرت بتول زہرا (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) نے یہ کلمات نہ صیحہ (چیخ وپکار) وفریاد کے ساتھ کہے نہ ان میں کوئی غلطی یابے تحقیق وصف بیان فرمایانہ کوئی کلمہ شکایت ربُّ العِزّۃ وناراضی قضائے الٰہی پردالّ (دلالت کرنے والا) تھا، لہٰذا اس میں کوئی وجہِ ممانعت نہیں ۔ (فتاوی رضویہ، ۲۴ / ۴۸۵)