Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
79 - 85
وصالِ ظاہری کے وقت لوگوں کی حالت: 
جب پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دنیا سے پردہ فرمایا تو مسلمانوں میں ایک اضطراب پھیل گیا، کسی کے ہوش اُڑ گئے اور دماغ پہ اثر ہوگیا، کوئی غم وحیرت سے معذور ہوگیا اور اٹھنے کی سکت نہ رہی، کوئی صدمے سے گُنگ ہوگیا اور قوّتِ گویائی جاتی رہی، کچھ لوگوں نے نبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری کو تسلیم ہی نہیں کیا اور بولے : رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ پاک کے پاس بُلائے گئے ہیں جیسے حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بُلایا گیا تھا ۔ حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  بھی یہی کہتے تھے ۔ خلیفۂ اوّل حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو اطلاع ملی تو آپ فوراً آئے ، حجرۂ عائشہ میں داخل ہوئے ، سرورِ آدم وبنی آدم، رُوحِ روانِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جسدِ نُوری پر چادر تھی، نُورِ باری حجاب میں تھا، حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے رُخِ انور سے چادر ہٹائی اور والہانہ روتے ہوئے جھک گئے ، رُخِ انور کو بوسہ دیتے اور روتے  ہوئے کہتے : وَانَبِیَّاہ!  وَاخَلِیْلَاہ!  وَاصَفِیَّاہ!  ہائے پیارے نبی!  ہائے محبوب دوست!  ہائے پیارے محبوب!  اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن بے شک ہم اللہ کے ہیں اور ہمیں اُسی کی طرف پھرنا ہے ۔ خُدا کی قسم!  جانِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دنیائے فانی سے پردہ فرماگئے ہیں، بخدا!  خُدائے رحمان عَزَّ  وَجَلَّ آپ پر دو مَوتیں جمع نہیں فرمائے گا، جو وفاتِ ظاہری آپ کے لئے لکھ دی گئی تھی آپ اُسے پہنچ گئے ہیں ۔ 
سیِّدُناصدیق اکبر کا خطبہ: 
پھر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  مسجد نبوی عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ میں داخل ہوئے ، حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  لوگوں کے سامنے تقریر کررہے تھے لوگ اُن کے پاس جمع تھے ، امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا صِدّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے گفتگو شروع کی، کلمہ شریف پڑھا حمدِ باری تعالیٰ بیان کی ۔ لوگ حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو چھوڑ کر حضرت سیِّدُنا صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی طرف متوجّہ ہوگئے ۔ حضرت سیِّدُنا صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے فرمایا: جو محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عبادت کرتا تھا (مَعَاذَاللہ) وہ جان لے کہ محمدِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دُنیا سے پردہ فرماگئے ہیں اور جو