اس دن ربیع الاول کی کیا تاریخ تھی؟ اس کے متعلق اختلاف ہے ۔ ایک قول ہے کہ یکم ربیع الاول تھی ۔ ایک قول ہے ۲ربیع الاول تھی ۔ ایک قول ہے : ۱۲ ربیع الاول تھی ۔ ایک قول ہے : ۱۳ ربیع الاول تھی اور ایک قول کے مطابق ۱۵ ربیع الاول تھی ۔ لوگوں میں مشہور یہی ہے کہ ۱۲ ربیع الاول کو دنیا سے پردہ فرمایا ۔
امام سہلی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور دیگر کچھ بزرگوں نے ۱۲ ربیع الاول والے قول کا رد کیا اور کہا: 10 سنِ ہجری میں حجۃ الوداع کے موقع پر یومِ عرفہ جمعۃ المبارک کے دن آیا تھا، یکم ذو الحجۃ الحرام جمعرات کا دن تھا، ایسی صورتِ حال میں ۱۲ ربیع الاول کی تاریخ پیر کے دن ہو ہی نہیں سکتی چاہے ذو الحجۃ الحرام، محرم الحرام اور صفر المظفر؛ تینوں مہینوں کو تیس تیس دن شمار کریں یا سب کو اُنْتیس اُنْتیس دِن مانیں یا کسی کو تیس اور کسی کو اُنتیس فرض کریں ۔
لیکن اس کا ایک بہترین جواب دیا گیا ہے : امام ابن اسحاق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ذکر کیا کہ حضور جانِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات ظاہری ۱۲ ربیع الاول کی شب ہوئی ۔ اور یہ ممکن ہے کیونکہ اہلِ عرب تاریخوں کا اعتبار راتوں سے کرتے تھے دِنوں سے نہیں، اہلِ عرب اسی رات کی تاریخ کا شمار کرتے تھے جس کے بعد دن گزر چکا ہو یوں دِن رات کے تابع ہوگا اور جس رات کے بعد ابھی تک دن نہیں گزرا وہ رات شمار نہیں ہوتی تھی، یونہی جب اہلِ عرب راتوں کی تعداد ذکر کرتے تو دن اور رات مراد ہوتے تھے ، جب اہلِ عرب کہتے : دس راتیں، تو مراد ہوتی دس راتیں اپنے دنوں سمیت ۔ یہیں سے جمہور کے قول کی درستی ظاہر ہو جاتی ہے کہ وفات کی عدّت چار مہینے دس راتیں، دنوں سمیت ہیں ۔ چار مہینے کے بعد دسویں دن میں عدت کی تکمیل ہوتی ہے جبکہ امام اوزاعی کا قول مختلف ہے ۔
یونہی حج کے مہینوں سے متعلق جمہور کہتے ہیں: حج کے مہینے شوّال المکرم، ذو القعدۃ الحرام اور ذو الحجۃ الحرام کے دس دن ہیں ۔ اسی معنیٰ کے اعتبار سے یومِ نحر بھی حج کے دنوں میں شامل ہے ۔ امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قول مختلف ہے ۔
وقتِ تدفین کے متعلق اختلاف ہے ۔ ایک قول ہے : اسی وقت تدفین ہوئی ۔ لیکن یہ بہت بعید ہے ۔ ایک قول ہے : منگل کی رات ہوئی ۔ ایک قول ہے : منگل کے دن ہوئی ۔ ایک قول ہے : بدھ کی رات ہوئی ۔