Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
77 - 85
 رحمت اور برکتیں ہوں ۔ (پھر اس نے یہ آیت تلاوت کی)
كُلُّ  نَفْسٍ   ذَآىٕقَةُ  الْمَوْتِؕ-وَ  اِنَّمَا  تُوَفَّوْنَ  اُجُوْرَكُمْ  یَوْمَ  الْقِیٰمَةِؕ- (پ۳، : اٰل عمرٰن: ۱۸۵)
ترجمۂ کنز الایمان: ہر جان کو موت چکھنی ہے اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے ۔
	(اور کہا) بے شک اللہ پاک کی راہ میں ہر مصیبت سے صبر کرنا ہے اور ہر فوت شدہ کا خلیفہ ہے  اور ہرگزر جانے والے کا عوض ہے  تو اللہ پاک پر ہی بھروسا رکھو اور اسی سے امید رکھو ، پورا  مصیبت زدہ وہ ہے جو ثواب سے محروم کردیا گیا ۔ وَالسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ ۔  “ (1)
رحمتِ عالَم، نُورِ مُجسّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصالِ ظاہری ربیع الاوّل کے مہینے میں پیر کے دن ہوا، اس پر سب کا اتفاق ہے ۔ یہ وہ دن تھا کہ لوگ حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی امامت میں فجر کی نماز ادا کر رہے تھے ، اتنے میں حجرۂ مقدّسہ کا پردہ اٹھا، صحابَۂ کرام نے جو اس طرف نگاہ اٹھائی ، قرآن کے ورق کی طرح روشن چہرہ اقدس دیکھا توانپر مسرت کی وہ کیفیت طاری ہوئی کہ سوچا نماز ہی توڑدیں اور یہ سمجھے کہ نبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز کے لئے تشریف لارہے ہیں ۔ لیکن پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ رہو ۔ (2) پھر حجرۂ مقدسہ کا پردہ گرادیا ۔ اسی دن پیارے آقا، مدینے والے مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  دنیا سے پردہ فرما گئے ۔ 
جب پیر کی فجر میں صحابۂ کرام  عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے نبیّ پاک صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طبیعت سنبھلی ہوئی دیکھی تو سمجھے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحت یاب ہوگئے ہیں ۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  بیرونِ مدینہ مقامِ ”سُنح “  میں چلے گئے ، پھر جب دن چڑھا تو جانِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دنیا سے پردہ فرماگئے ۔ ایک قول ہے کہ غروبِ آفتاب کے قریب انتقال فرمایا ۔ لیکن پہلا قول زیادہ درست ہے کہ ہجرت کے موقع پر مدینہ منوّرہ زَادَہَا اللہُ شَرَفاً وَّتَعْظِیْماً میں جس وقت تشریف آوری ہوئی تھی عین اسی وقت جبکہ پیر کا دن خوب چڑھ گیا تھا پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دنیا سے پردہ فرمایا ۔ 



________________________________
1 -     معجم کبیر، ۳ /  ۱۲۸، حدیث: ۲۸۹۰
2 -     ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی الصبر علی المصیبة، ۲ /  ۲۶۷، حدیث: ۱۵۹۹، بتغیر