Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
76 - 85
 سے روایت کرتے ہیں کہ نبیّ پاک صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری سے تین دن پہلے حضرت سیِّدُنا جبریلِ امین عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے احمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اللہ پاک نے آپ کی عزت افزائی اور احترام کے لئے مجھے خصوصی طور پر روانہ فرمایا ہے ، وہ آپ سے اُس کے متعلق پوچھتا ہے جو وہ آپ سے زیادہ جانتا ہے کہ آپ اپنے کو کیسا پاتے ہیں؟ فرمایا: ”اے جبریل!  میں اپنے کو غمگین پاتا ہوں اور اپنے کو ملول پاتا ہوں ۔  “  دوسرے دن پھر پھر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہی عرض کی، نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ویسا ہی جواب دیا جو پہلے دن دیا تھا پھر آپ کے پاس تیسرے دن آئے تو وہی عرض کیا جو پہلے دن عرض کیا تھا اور حضور نے انہیں وہی جواب دیا جو پہلے دیا تھا، پھر بارگاہِ رسالت میں موت کے فرشتے نے حاضری کی اجازت چاہی، حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: اے احمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!  یہ ملک الموت حاضری کی اجازت چاہتے ہیں، اِنہوں نے آپ سے پہلے کسی آدمی سے اجازت مانگی نہ آپ کے بعد کسی سے اجازت لیں گے ۔ محبوبِ ربِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”انہیں اجازت دے دو ۔  “  ملک الموت عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام داخل ہوئے ، بارگاہِ مصطفے ٰ میں با ادب کھڑے ہوگئے اور عرض کی: یارسولَ اللہ! بے شک اللہ پاک نے مجھے آپ کی بارگاہ میں بھیجا ہے اورحکم دیا ہے کہ آپ جو بھی فرمائیں میں اس پر عمل کروں، اگر حکم فرمائیں تو رُوحِ مبارک قبض کروں اور حکم فرمائیں تو اُسے چھوڑ دوں ۔ جانِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ”اے ملَک الموت!  کیا تم یہ کام کرو گے ؟ “  عرض کی: جی ہاں!  مُجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ آپ کے ہر فرمان میں آپ کی اطاعت کروں ۔ حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کی: اے احمدِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!  بے شک اللہ پاک آپ کا مشتاق ہے ۔ محبوبِ خداصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اے ملک الموت!  جس کا تم کو حکم دیا گیا ہے وہ کرگزرو ۔  “  حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کی: السّلام علیک یا رسول اللہ (یارسولَ اللہ!  آپ پر سلام ہو)  زمین پر میری یہ آخری آمد تھی، دنیا میں مجھے آپ ہی سے غرض تھی ۔ پھر  وہاں سے تعزیت کی آواز آنے لگی، آواز اور آہٹ تو سُنائی دیتی لیکن کہنے والا دکھائی نہیں دیتا تھا، کہنے والا کہہ رہا تھا: ”اے اہلِ بیت!  تم پر سلام ہو، اللہ پاک کی