Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
75 - 85
 تَعَالٰی عَنْہ ) (1)یہی وجہ ہے کہ مرض الموت کی ابتدا میں جب حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے کہا: ہائے میرا سر ۔ تو پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا تھا: ”میں تو چاہتا ہوں کہ یہ معاملہ میری حیات میں ہوجائے ، میں تمہاری نمازِ جنازہ پڑھوں اور تمہیں دفناؤں ۔  “  (2)یہ بات اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پر بہت گراں گزری تھی اور انہیں گمان ہوا کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھ سے جُدا ہونا چاہتے ہیں حالانکہ رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان کا مطلب تھا کہ حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پہلے ہی آگے پہنچ جائیں تاکہ جلد ہی پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے پاس تشریف لے جائیں ۔ 
حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے مسواک چبائی اور اپنے لعاب سے اُسے نرم کرکے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پیش کی، نبیّ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بہت عمدگی سے مسواک فرمائی پھر اُسے دستِ مبارک سے پکڑنے لگے تو کمزوری کے باعث مسواک ہاتھ میں نہ رہ سکی اور دستِ مبارک سے چھوٹ کر زمین پر گر گئی ۔ حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرمایا کرتی تھیں: اللہ پاک نے نبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دنیا کے آخری دن اور آخرت کے پہلے دن میرا اور نبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا لعابِ دہن جمع فرمادیا ۔ (3)
حدیث شریف میں آتا ہے ، رحمتِ عالَم نُورِ مُجسّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مرض الموت میں حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا: ”میرے پاس تر مسواک لاؤ، اُسے چباؤ، پھر مجھے دو میں اُسے چباؤں تاکہ میرا لعابِ دہن تمہارے لعاب سے مل جائے اور میرے لئے موت آسان ہوجائے ۔  “ (4)
حضرت سیِّدُنا امام جعفرِ صادق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والدِ گرامی حضرت سیِّدُنا امام باقر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ



________________________________
1 -     بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب قول النبی لو کنت متخذا خلیلا، ۲ /  ۵۱۹، حدیث: ۳۶۶۲
2 -     ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی غسل الرجل امراتہ      الخ، ۲ /  ۲۰۲، حدیث: ۱۴۶۵
	مسند احمد، مسند السیدة عائشة، ۹ /  ۴۷۷، حدیث: ۲۵۱۶۷
3 -     بخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی ووفاتہ، ۳ / ۱۵۸ ، حدیث: ۴۴۵۱
4 -     الضعفاء للعقیلی، رقم۸۰۴، عبداللہ بن داود الواسطی، ۲ /  ۶۴۴