وقت میں شفا دیتا تھا ۔ “ (1)
اخروی انعامات کا نظارہ:
حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: جب انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو موت سے ناراضی ہوئی تو اللہ پاک نے اپنی ملاقات سے اور انبیائے کرام کے پسندیدہ تحفوں اور بزرگیوں سے اُن پر موت کو آسان فرمادیا، حتّٰی کہ جب ان میں سے کسی کے مبارک پہلوؤں سے رُوح کھینچی جارہی ہوتی ہے تو وہ اسے پسند کرتے ہیں کیونکہ اُنہیں اُخروی انعامات دکھا دیئے گئے ۔
حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ نبیّ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: بے شک ضرور مجھ پر موت آسان کردی جائے گی کیونکہ میں نے عائشہ کی ہتھیلی کی سفیدی جنت میں دیکھی ۔ (2)
دوسری روایت میں ہے کہ محبوبِ خداصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: مجھے جنت میں عائشہ دکھائی گئی، حتّٰی کہ اس طرح مجھ پر میرا انتقال آسان کردیا جائے گا، گویا میں عائشہ کی دونوں ہتھیلیاں دیکھ رہا ہوں ۔ (3)
حضورنبیّ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے ، ان کے بغیر نہ رہتے تھے ، لہٰذا محبوبِ کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جنت میں حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا دکھا دی گئیں تاکہ موت کی سختیاں آپ کے لئے آسان ہوں، کیونکہ زندگی دوستوں کے مِلَن سے ہی خوشگوار ہوتی ہے ۔
بارگاہِ رسالت میں کسی نے عرض کی: لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ ارشاد فرمایا: ”عائشہ ۔ “ عرض کی گئی: اور مَردوں میں؟ ارشاد ہوا: ”عائشہ کے والد “ (یعنی حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ
________________________________
1 - ابن حبان، کتاب الجنائز، باب المریض وما یتعلق بہ، ۴ / ۲۶۹، حدیث: ۲۹۵۱
2 - مسند احمد، مسند السیدة عائشة، ۹ / ۴۶۷، حدیث: ۲۵۱۳۰
3 - الطبقات لابن سعد، رقم۴۱۲۸، عائشة بنت ابی بکر الصدیق، ۸ / ۵۲