نے اپنا جنتی مقام دیکھا پھر آپ کی جان آپ کو واپس لوٹا دی گئی پھر آپ کو دنیا و آخرت میں سے ایک کو چننے کا اختیار دیا گیا ۔
ایک روایت میں حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابیان کرتی ہیں: رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرمایا کرتے تھے کہ ”ہر نبی کی روح قبض کی جاتی ہے پھر وہ ثواب دیکھ لیتا ہے پھر اسے دنیا میں واپس بھیج کر دنیا اور اس جنتی مقام کے درمیان اختیار دے دیا جاتا ہے ۔ “ حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ مجھے آپ کی یہ حدیث پاک یاد تھی، میں آپ کو اپنے سینے سے لگائے آپ کو دیکھ رہی تھی یہاں تک کہ آپ کی مبارک گردن جھک گئی، میں سمجھی آپ کا وصال ہو گیا، مگر مجھے آپ کا فرمان یاد تھا چنانچہ میں آپ کو دیکھتی رہی حتّٰی کہ آپ نے اپنی مبارک گردن اٹھا کر دیکھا تو میں دل میں کہا: خدا کی قسم! اب آپ ہمیں اختیار نہیں فرمائیں گے ۔ ارشاد فرمایا: جنت میں رفیق اعلیٰ کے ساتھ (پھر یہ آیت مبارکہ تلاوت کی: )
مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًاؕ(۶۹) (پ۵، النسآء: ۶۹)
ترجمۂ کنز الایمان: ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللّٰہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں ۔ (1)
حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں: پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر غشی طاری ہوگئی، آپ کا سرِ مبارک میری گود میں تھا، میں سرِ اقدس پر ہاتھ پھیرنے لگی اورآپ کے لئے شفا کی دُعا کرنے لگی، جب افاقہ ہوا تو جانِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں! بلکہ میں اللہ پاک سے رفیق اعلیٰ کا سوال کرتا ہوں، جبرائیل میکائیل اور اسرافیل کے ساتھ ۔ “ (2)
حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مرضِ وفات میں آپ پر دَم کرتی تھیں، حبیبِ خداصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اپنا ہاتھ اٹھا لو، یہ ہاتھ مجھے ایک
________________________________
1 - مسند احمد، مسند السیدة عائشة، ۹ / ۳۴۹، حدیث: ۲۴۵۰۸
2 - ابن حبان، کتاب التاریخ، باب مرضی النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ۸ / ۱۹۹، حدیث: ۶۵۵۷