ٹھکانا دکھا کر اختیار نہ دے دیا جائے ۔
آخری کلمہ:
حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں: جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ہونے لگا تو آپ کا مبارک سر میری ران پر تھا، آپ پر ایک گھڑی غشی طاری ہوئی پھر افاقہ ہو گیا، آپ کمرے کی چھت کو تَک رہے تھے ، پھر آپ نے فرمایا: ”اَللّٰھُمَّ الرَّفِیْقَ الْاَعْلٰی یعنی اے میرے اللہ! مجھے رفیق اعلیٰ عطا فرما ۔ “ میں نے کہا: اب آپ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَامہمیں چھوڑے جا رہے ہیںاور میں نے جان لیا کہ جو آپ ہم سے بیان کیا کرتے تھے ، وہ بات صحیح واقع ہوئی ۔ یہ آخری کلمہ تھا جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ادا فرمایا ۔ (1)
ایک روایت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یوں دعا کی: اَللَّہُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَارْحَمْنِیْ وَ اَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی یعنی اے میرے اللہ! میری مغفرت فرما، مجھے پر رحم فرما اور مجھے رفیق اعلیٰ میں داخل فرما ۔ (2)
اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آواز بھاری ہو گئی، پھر میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ کہتے سنا:
مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًاؕ(۶۹) (پ۵، النسآء: ۶۹)
ترجمۂ کنز الایمان: ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللّٰہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں ۔
حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں: میں نے گمان کیا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس وقت (دنیا و آخرت میں سے ایک کو چننے کا)اختیار دیا گیا ہے ۔ (3)
روح واپس لوٹ آئی:
اور ایک روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی روح قبض ہوئی پھر آپ
________________________________
1 - بخاری، کتاب الرقاق، باب من احب لقاء اللہ احب اللہ لقاءہ، ۴ / ۲۴۹، حدیث: ۶۵۰۹
2 - بخاری، کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت، ۴ / ۱۴، حدیث: ۵۶۷۴
3 - بخاری، کتاب التفسیر، باب فاولئک مع الذین انعم اللہ الخ، ۳ / ۲۰۶، حدیث: ۴۵۸۶