میں اپنا ہاتھ داخل کرتے پھر اپنے چہرے پر پانی مل لیتے اور عرض کرتے : اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلَیَّ سَکَرَاتِ الْمَوْت یعنی اے اللہ! موت کی سختیوں پر میری مدد فرما ۔ (1) حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کہا کرتے تھے : لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اِنَّ لِلْمَوْتِ لَسَکَرَاتٍیعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں بے شک موت کی تکلیف بہت سخت ہے ۔ (2)
ایک حدیثِ پاک میں آتا ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بارگاہِ الٰہی میں یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ! تو پٹھوں، جوڑوں اور انگلیوں کے پوروں سے روح نکالتا ہے ، اے میرے اللہ! موت پر میری مدد فرما اور اسے مجھ پر آسان فرما ۔ (3)
جب حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر سختی زیادہ ہوئی ، یہ دیکھ کر حضرت سیِّدَتُنا فاطمۃ الزہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے کہا: ہائے میرے والد کی تکلیف! آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: آج کے بعد تمہارے باپ پر کوئی تکلیف وسختی نہ ہو گی ۔ (4)
ایک روایت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدَتُنا فاطمۃ الزہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا: تمہارے والد کو وہ چیز پہنچی ہے جس سے اللہپاک کسی کو نہیں چھوڑے گا یعنی قیامت کے دن اس کی بارگاہ میں حاضری ۔ (5)
بوقتِ وصال انبیا کا اکرام:
آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی روح قبض کیے جانے سے قبل آپ کو ایک اور مرتبہ دنیا اور آخرت میں سے ایک کو چننے کا اختیار دیا گیا ۔ چنانچہ حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرمایا کرتے تھے : کسی نبی کی روح کبھی قبض نہیں ہوتی جب تک اسے اس کا جنتی
________________________________
1 - ترمذی، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی التشدید عند الموت، ۲ / ۲۹۴، حدیث: ۹۸۰
2 - بخاری، کتاب الرقاق، باب سکرات الموت، ۴ / ۲۵۰، حدیث: ۶۵۱۰
3 - موسوعة ابن ابی الدنیا، کتاب ذکر الموت، ۵ / ۴۵۲، حدیث: ۱۸۹
4 - بخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی و وفاتہ، ۳ / ۱۶۰، حدیث: ۴۴۶۲
5 - ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاتہ و دفنہ صلی اللہ علیہ وسلم، ۲ / ۲۸۶، حدیث: ۱۶۲۹