Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
70 - 85
 مشکیزے سے چند قطرے ٹپکا دیں کیونکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شام سے سکرات کے عالم میں ہیں، (1)اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس ایک موٹی یمنی تہبند اور ایک پیوند لگی چادر تھی، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے اللہ پاک کی قسم کھا کر کہا کرتی تھی: رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ان دو کپڑوں میں ہوا ۔    (2)
بوقتِ وصال اپنی شہزادی سے سرگوشی: 
	حضرت سیِّدَتُنا فاطمۃ الزہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا رسول پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مرض وصال کے دوران آئیں، تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے سرگوشی فرمائی جس پر وہ رونے لگیں، پھر سرگوشی فرمائی تو وہ ہنسنے لگیں، آپ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے یہ کہہ کر بتانے سے انکار کر دیا کہ میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاراز فاش نہیں کروں گی، جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ہو گیا تو آپ سے اس بارے میں پوچھا گیا، اس پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے بتایا: حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے خبر دی تھی کہ اس مرض میں آپ کا وصال ہو جائے گا اس پر میں رونے لگی، پھر آپ نے مجھے خبر دی کہ اہل بیت میں سب سے پہلے میں ان سے ملوں گی اور میں تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہوں، اس پر میں خوش ہو کر مسکرا دی ۔ جب دنیا سے جانے کا بالکل آخری وقت ہوا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا معاملہ شدید ہو گیا، حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر موت کی شدت دیکھنے کے بعد مجھے کسی ایسے شخص پر رشک نہیں آتا جس پر موت آسان ہو گئی ۔ (3)
	آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ  حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس پانی کا پیالہ تھا، آپ اس



________________________________
1 -     (318)     معجم کبیر، ۶ /  ۱۹۸، حدیث: ۵۹۹۰
2 -     بخاری، کتاب فرض الخمس، باب ما ذکر من درع النبی      الخ، ۲ /  ۳۴۳، حدیث: ۳۱۰۸
3 -     بخاری، کتاب الاستئذان، باب من ناجی بین یدی الناس     الخ، ۴ /  ۱۸۴، حدیث: ۶۲۸۵
	مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب فضائل فاطمة بنت نبی علیھا الصلاة والسلام، ص ۱۰۲۲، حدیث: ۶۳۱۳
	ترمذی، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی التشدید عند الموت، ۲ /  ۲۹۵، حدیث: ۹۸۱