Brailvi Books

فیضانِ ربیع الاول
69 - 85
عورت کی پیش کردہ بھنی ہوئی بکری کے زہر نے نقصان پہنچایا تھا، آپ نے خیبر کے دن اس میں سے کچھ کھا لیا تھا چنانچہ اس کا زہر کبھی کبھی جوش مارتا تھا، اسی لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے مرض وصال میں فرمایا: خیبر کا ایک لقمہ ہمیشہ مجھ پر عود کرتا رہا ہے ، یہ وہ اوقات ہیں جن میں  میری شہ رگ منقطع ہو جائے گی ۔ (1)
	حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دیگر کہتے ہیں: آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زہر دئیے جانے کے سبب شہید ہوئے ۔  (2)
	اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں: میں نے ایسا کوئی نہیں دیکھا جس کے مرض کی شدت رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ سخت ہو، مرض وصال کے وقت آپ کے پاس سات دینار تھے ، آپ نے وہ دینار صدقہ کرنے کا حکم دیاپھر آپ پر غشی طاری ہو گئی، اہل خانہ تیمارداری میں مشغول ہو گئے ، پھر آپ نے وہ دینار منگوا کر اپنی ہتھیلی میں رکھے اور فرمایا: محمد کا اپنے رب کے بارے میں کیا گمان ہو گا کہ اگر وہ اللہ پاک سے ملاقات کرے اور اس کے پاس یہ دینار ہوں؟ پھر آپ نے سب دینار صدقہ کر دئیے ۔ (3) اس کا حال کیا ہو گا جو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ذمہ مسلمانوں کا خون اور ناحق مال ہو؟ جبکہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اپنے رب کے بارے میں کیسا گمان تھا حالانکہ آپ کے گھروالوں کے پاس آپ کے مرض میں چراغ جلانے کے لئے تیل بھی نہیں تھا ۔ 
مالک کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں: 
	پیر کی رات جب آپ کے مرض نے شدت اختیار کی تو اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ازواج مطہرات میں سے کسی زوجہ کے پاس یہ کہہ کر چراغ بھیجوایا کہ ہمارے چراغ میں گھی کے



________________________________
1 -     بخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی و وفاتہ، ۳ /  ۱۵۲، حدیث: ۴۴۲۸
	دارمی، المقدمة، باب ما اکرم النبی صلی اللہ علیہ وسلم من کلام الموتی، ۱ /  ۴۶، حدیث: ۶۷ 
2 -     الموھب اللدنیة، المقصد العاشر، الفصل الاول فی اتمامہ تعالی نعمتہ علیہ      الخ، ۳ /  ۳۷۶ 
3 -      مسند احمد، مسند السیدة عائشة، ۹ /  ۴۰۵، حدیث: ۲۴۷۸۷